Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 295

By Maulana Wahiduddin Khan

کے بارہ میں ایک مضمون المسلمون في نیپال) شائع ہوا ہے۔ اس مضمون میں دوسری باتوں کے علاوہ یہ شکایت کی گئی ہے کہ اسلام اور عربی زبان کی تعلیم کی اجازت نیپال کے سرکاری اسکولوں میں نہیں ہے۔ تعليم الاسلام واللغة العربية غير مسموح به في المدارس الحكومية) اس قسم کی شکایت کو میں بالکل بے معنی سمجھتا ہوں۔ پاکستان کے ہندو اگر یہ شکایت کریں کہ پاکستان کے سرکاری اسکولوں میں ہندو دھرم اور سنسکرت کی تعلیم کا انتظام نہیں ہے تو مسلمان اس شکایت کو بے وزن قرار دیں گے۔ مگر خود مسلمان اپنا یہ حق سمجھتے ہیں کہ وہ دوسروں کے بارہ میں اس قسم کی شکایت کریں اور یہ سمجھیں کہ وہ اپنی اس شکایت میں حق بجانب ہیں۔ ۱۳ مئی ۱۹۹۰ مسٹر محمد مدار باوا (M. M. Bawa) مدراس سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ ہندوستانی فوج میں تھے چار سال پہلے کرنل کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ اس کے بعد سے وقف کونسل (نئی دہلی) کے سکریٹری ہیں۔ آج وہ ہمارے دفتر میں آئے۔ انھوں نے بتایا کہ ۱۹۶۳ میں وہ راجوری (جموں وکشمیر) میں کیپٹن کی حیثیت سے تعینات تھے۔ وہ وہاں اینیمل ٹرانسپورٹ کمپنی (Animal Transport Co) کے انچارج تھے۔ اس شعبہ کے تحت ۳۰۰ خچر اور کچھ گھوڑے تھے۔ ان حیوانات کا گوبر ایک بڑے گڑھے میں ڈال دیا جاتا تھا اور اس کے اوپر مٹی پھیلا دی جاتی تھی۔ چھ ماہ کے بعد وہ نہایت عمدہ کھاد بن جاتی تھی۔ انھوں نے بتایا کہ انھوں نے اپنے جونیئر افسروں کے ذریعہ راجوری کے کشمیری مسلمانوں کے یہاں یہ پیغام بھیجا کہ ہمارے پاس کافی مقدار میں قیمتی کھاد موجود ہے۔ یہ ساری کھاد ہم آپ کو مفت دے دیں گے۔ اسی کے ساتھ ہم آپ کو بلا قیمت ٹرانسپورٹ بھی مہیا کریں گے۔ تاکہ آپ اس کھاد کو اپنے کھیت تک لے جاسکیں۔ مگر وہاں کے مسلمان اس پیش کش کو قبول نہ کر سکے۔ انھوں نے کہا کہ ہم کو کھاد کی ضرورت نہیں۔ ہم کو یہاں نہایت سستا بلکہ (۸) آنہ کلو گیہوں اور چاول مل جاتا ہے۔ پھر ہم اس جھنجھٹ میں کیوں پڑیں۔ یہی کشمیری مسلمانوں کا اصل المیہ ہے۔ انھوں نے پچھلے ۵۰ سال بے فائدہ سرگرمیوں میں کھودیئے۔ ان کو زراعت، تجارت، تعلیم اور دوسرے تعمیری میدانوں میں کام کرنے کے قیمتی مواقع حاصل تھے۔ مگر وہ ان مواقع کو استعمال کرنے میں ناکام رہے۔ اب جب کہ وہ زندگی کی دوڑ میں پچھڑ گئے ہیں وہ نئی دہلی سے اپنے پچھڑے پن کی قیمت وصول کرنا چاہتے ہیں۔ مگر حقائق کی دنیا میں ایسا ہونا ممکن نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page