Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 296

By Maulana Wahiduddin Khan

کشمیر کے جنگ جو نوجوانوں نے ۱۶ اپریل ۱۹۹۰ کو دو اعلیٰ سرکاری افسروں کا اغوا کر لیا۔ ایک کے ایل کھیرا، اور دوسرے، پروفیسر شیر الحق۔ ان دونوں کو انھوں نے یرغمال بنایا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ ہمارے چار گرفتار ساتھیوں کو رہا کر دو تو ہم ان کو چھوڑ دیں گے۔ حکومت نے کوئی توجہ نہ دی یہاں تک کہ ۱۸ اپریل کو انھوں نے مسٹر کھیرا کو گولی مار کر ان کی لاش سڑک پر پھینک دی۔ حکومت نے اب بھی کوئی توجہ نہ دی۔ چنانچہ انھوں نے دو دن بعد ۲۰ اپریل کی شام کو پروفیسر شیر الحق کو بھی گولی مار دی۔ ان کی لاش سڑک پر پڑی ہوئی ملی۔ مسلم دانشوروں کے نزدیک یہ حکومت کے تعصب کا ثبوت ہے۔ مسٹر کھیرا ہندو تھے اور شیر الحق مسلمان۔ جب ہندو مر چکا اور صرف مسلمان باقی رہ گیا تو حکومت نے اس معاملہ میں اپنی دل چسپی کھو دی۔ اس نے جنگ جوؤں کے مطالبہ کو نظر انداز کیا۔ یہاں تک کہ انھوں نے شیر الحق کو بھی مار ڈالا۔ مسلم دانشور اور رہ نما ساری دنیا میں اسی قسم کے تبصرے کرنے میں مشغول ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ مسلمان موجودہ زمانہ میں ایک غیر دانش مند قوم بن گئے ہیں۔ دانشمندی واقعات سے سبق لینے سے آتی ہے۔ اور مسلمانوں کو ہر واقعہ میں اغیار کا ظلم اور تعصب دکھایا جاتا ہے۔ انھیں کسی واقعہ میں کوئی سبق کی بات نہیں بتائی جاتی۔ مذکورہ واقعہ پر مسلمانوں کو یہ لکھنا چاہئے تھا کہ جنگ جو نوجوانوں کی بے تدبیری تھی۔ انھیں پیشگی طور پر یہ جاننا چاہئے تھا کہ ہندو کو مار دینے کے بعد حکومت اس معاملہ میں اپنی دل چسپی کھو دے گی۔ جو واقعہ خود کشمیری نوجوانوں کی بے تدبیری کو بتا رہا تھا، اس کو انھوں نے حکومت ہند کے تعصب کے خانہ میں ڈال دیا۔ اس قسم کے تبصرے کسی قوم کے ساتھ سب سے بڑا ظلم ہیں۔ وہ قوم کی تخمیق کے ہم معنی ہیں۔ ۱۵ مئی ۱۹۹۰ مولانا حسرت موہانی (۱۹۵۱-۱۸۸۱)، تحریک آزادی کے دوران نمایاں ہوئے۔ مسلمان ان کے بارے میں فخر کے ساتھ کہتے ہیں کہ انھوں نے ۱۹۲۱ میں مکمل آزادی کا ریزولوشن پیش کیا۔ جب کہ کانگریس نے پہلی بار ۱۹۲۷ میں پورن سوراج کی تجویز منظور کی۔ انھوں نے پانچ سال قید میں گزاری۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page