Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 297

By Maulana Wahiduddin Khan

ان کے بارے میں ایک مضمون قومی آواز (۱۳ مئی ۱۹۹۰) میں شائع ہوا ہے۔ مضمون نگار لکھتے ہیں کہ ”علی گڑھ کالج میں ایک مرتبہ طلبہ میں یہ بات نکلی کہ وہ کس کو اپنا پیشوا سمجھتے ہیں۔ کسی نے سرسید احمد کا نام لیا۔ کسی نے دادا بھائی نوروجی کا اور کسی نے سریندر ناتھ بنرجی کا۔ مگر حسرت نے کہا کہ میں بال گنگا دھر تلک کو اپنا پیشوا سمجھتا ہوں۔ علی گڑھ کے ماحول میں حسرت کا کانگریس کی ہمنوائی کرنا اور بال گنگا دھر تلک کو اپنا سیاسی پیشوا سمجھنا ان کے سیاسی شعور اور انقلابی ذہنیت کا مظہر ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ۱۹۴۷ سے پہلے کے دور میں مسلمانوں کے اندر کتنا زیادہ سیاسی جنون تھا۔ ہر آدمی جوش سیاست میں سرشار تھا اور کسی نہ کسی سیاسی لیڈر کو اپنا ”پیشوا“ بنائے ہوئے تھا۔ میرے نزدیک یہ سیاست غیر دینی بھی تھی اور احمقانہ بھی۔ غیر دینی اس لئے کہ مسلمان کا اصل کام دعوت آخرت ہے نہ سیاست آزادی۔ احمقانہ اس لئے کہ موجودہ حالات میں مسلمانوں کو سیاست سے کچھ ملنے والا نہیں تھا۔ کیوں کہ سیاسی انقلاب سے فائدہ اٹھانے کے لئے جو بنیاد (Base) ضروری ہے، وہ مسلمانوں کے پاس موجود نہ تھی۔ ۱۴ مئی ۱۹۹۰ ۷ اپریل ۱۹۹۰ کے اخبار میں ایئر بس (320-A) کا قصہ درج ہے۔ پندرہ ایئر بس فرانس سے خریدی گئی۔ ہر ایک ایئر بس کی قیمت ۴۵ کروڑ روپیہ سے زیادہ تھی۔ مگر وہ ہندوستان کے لئے ناقص یا غیر موزوں ثابت ہوئی۔ بظاہر اس کی خریداری صرف اس لئے کی گئی کہ اس خریداری کے تحت حکومت کی کچھ اعلیٰ شخصیتوں کو پچاس کروڑ روپیہ سے زیادہ بطور رشوت کمانے کا موقع مل گیا۔ سودا راجیو گاندھی کی حکومت کے زمانہ میں ہوا تھا۔ موجودہ وی پی سنگھ کی حکومت اس سودے کی تحقیق کر رہی ہے۔ مگر بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس معاملے میں اصل مجرم پکڑے نہ جاسکیں گے۔ کیونکہ حکومت کے دفتر میں وہ فائل موجود نہیں جو اس معاملے میں دستاویزی شہادت کا کام دیتی۔ ٹائیمس آف انڈیا (۹ مئی ۱۹۹۰) میں شہری ہوابازی کے وزیر مسٹر عارف محمد خان کا پارلیمنٹ کا بیان شائع ہوا ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ اس پوزیشن میں نہیں کہ وہ اس معاملے کی تمام دستاویزییں پارلیمنٹ میں پیش کر سکیں، کیوں کہ ایک بہت اہم فائل غائب ہے؛

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page