Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 298

By Maulana Wahiduddin Khan

one very vital file was missing. دنیا کے دفتروں میں مجرم لوگ اپنی فائلیں گم کرا دیتے ہیں تاکہ حکومت اور عدالت کی پکڑ سے بچ سکیں۔ اگر انھیں معلوم ہو کہ ان کی گم کردہ فائل دنیا میں گم ہوتی ہے۔ مگر آخرت میں وہ پوری طرح محفوظ رہتی ہے تو وہ کبھی ایسی بے فائدہ حرکت نہ کریں۔ ۱۷ مئی ۱۹۹۰ مولانا بشیر احمد بھٹہ (پیدائش ۱۸۸۵ء) میرٹھ میں پیدا ہوئے۔ وہ جمعیت علماء ہند کے لیڈروں میں میں سے تھے۔ وہ اینٹوں کے بھٹہ کا کام کرتے تھے، اس لئے 'بھٹہ' کے نام سے مشہور ہو گئے۔ ان کے بارے میں ایک مضمون قومی آواز (۱۳ مئی ۱۹۹۰) میں چھپا ہے۔ اس مضمون کا ایک اقتباس یہ ہے : "۱۹۲۱ میں خلافت کمیٹی کا ایک بڑا اجلاس سہونارہ میں ہوا۔ یہ وہ دور تھا جب ہندو اور مسلمان ایک ہی پلیٹ فارم پر جمع ہو گئے تھے۔ ہندو سیاسی کارکن بھی خلافت کمیٹی کے ممبر بن گئے۔ اس کا نفرنس میں دور دور تک آدمی ہی آدمی دکھائی دیتے تھے۔ ایک راوی کا کہنا ہے کہ مولانا ظفر علی خاں مالک اخبار 'زمیندار' کانفرنس کی نجی محفل میں مجمع کو قہقہہ زار بنائے ہوئے تھے۔ انھوں نے ایک کاغذ پر کچھ لکھ کر حاضرین کے سامنے بڑھایا۔ لکھا تھا : جو بارش زور کی ہوگی تو گر جائیں گی دیواریں کہ اینٹیں ساری کچی ہیں بشیر احمد کے بھٹہ کی ظفر علی خاں نے جو بات بشیر احمد کے بھٹہ کے بارے میں کہی ، وہی خود ظفر علی خاں پر اور دوسرے تمام مسلم لیڈروں پر چسپاں ہوتی ہے۔ ہر ایک نے کچی اینٹوں پر اپنا سیاسی قلعہ کھڑا کرنا چاہا ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ پہلی ہی بارش میں ان کا خیالی قلعہ مسمار ہو کر رہ گیا۔ میرا کام کرنے کا جو کمرہ ہے ، وہ گرمی کے موسم میں بہت زیادہ گرم رہتا ہے۔ ایک صاحب دو پہر کے وقت کرنے کے لئے آئے تو انھوں نے کہا کہ آپ کا کمرہ تو تندور ہو رہا ہے، آپ یہاں کس طرح کام کرتے ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page