Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 299

By Maulana Wahiduddin Khan

سکون ملتا ہے اور تکلیف سے ذہنی تجربہ۔ اور سکون کے مقابلہ میں تجربہ بلا شبہ زیادہ بڑی چیز ہے۔ مولانا انیس لقمان ندوی سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ فقہاء، اسلام نے بلاد کی تقسیم دو طرح کی ہے ـــ دار الاسلام، دار الحرب۔ موجودہ زمانہ میں بعض علماء نے اس میں ایک اضافہ ”دار الامن“ کا کیا ہے۔ یہ تقسیم جزئی طور پر درست ہے، مگر وہ کلی طور پر درست نہیں۔ صحیح تقسیم یہ ہے کہ بلاد کی تقسیم تین طرح پر کی جائے (۱) دار الدعوة (۲) دار الاسلام (۳) دار الحرب۔ فقہاء کے نزدیک وہ ملک جو دار الاسلام نہیں ہے، دار الحرب ہے۔ یہ بات صحیح نہیں۔ صحیح یہ ہے کہ جو ملک جارحیت کا آغاز کر کے مسلمانوں سے برسرِ جنگ ہو جائے، وہ دار الحرب قرار پائے گا۔ دار الاسلام سے مراد وہ ملک ہے جہاں مسلمانوں کا غلبہ ہو اور وہ وہاں اسلام کے احکام جاری کرنے کے لئے آزاد ہوں۔ بقیہ تمام ممالک دار الدعوۃ ہیں۔ یعنی ان ملکوں میں مسلمانوں کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اسلام کی دعوت اس کے ضروری آداب و شرائط کے ساتھ پہنچائیں۔ اور مدعو قوم کی زیادتیوں کو یکطرفہ طور پر برداشت کرتے ہوئے اسے جاری رکھیں۔ ۲۰ مئی ۱۹۹۰ دیو بند کے ایک صاحب آئے ۔ انھوں نے کہا کہ پہلے میں الرسالہ پڑھتا تھا۔ اب چھوڑ دیا۔ وجہ انھوں نے یہ بتائی کہ الرسالہ میں سب غیر مسلموں کی مثالیں ہوتی ہیں۔ اسلامی تاریخ کی مثالیں نہیں ہوتیں۔ الرسالہ جون ۱۹۹۰ آج ہی پریس سے آیا تھا۔ میں نے اس کا ایک ایک صفحہ انھیں دکھایا ۔ بیشتر مضامین مسلمانوں سے متعلق تھے یا ان میں قرآن و حدیث کا حوالہ تھا۔ ایک مضمون چاؤ سکو پر تھا۔ مگر اس سے موت اور آخرت کا سبق نکالا گیا تھا۔ پھر میں نے کہا کہ الرسالہ میں جو انداز اختیار کیا جاتا ہے ۔ وہ عین قرآن کا انداز ہے۔ اگر آپ کو الرسالہ کے انداز سے اختلاف ہے تو آپ کو قرآن کے انداز کو بھی غلط کہنا چاہئے۔ میں نے کہا کہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page