Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 30

By Maulana Wahiduddin Khan

الرساله (اردو، انگریزی) کے شمارہ فروری ۱۹۸۹ میں اعلان کیا گیا تھا کہ مالی مشکلات کی وجہ سے انگریزی الرساله کو اپریل ۱۹۸۹ سے بند کیا جا رہا ہے۔ اس پر خلاف توقع لوگوں کی طرف سے بہت ہمت افزا پیغامات ملے ۔ سب سے پہلے بمبئی کی ایک خاتون (مسز روشن نانک) نے اپنے ذاتی اکاؤنٹ سے پانچ ہزار روپیہ روانہ کیا ، وغیرہ۔ ہندو بھائیوں کے بھی متعدد پیغامات ملے ۔ اس سلسلہ میں سب سے پہلا ٹیلی فون مسٹر ارن شرما کی طرف سے موصول ہوا ۔ وہ انگریزی کے اعلیٰ درجہ کے جرنلسٹ ہیں۔ انھوں نے اپنی طرف سے ہر قسم کے تعاون کا یقین دلایا۔ آج وہ خود ہمارے دفتر میں آئے اور دیر تک باتیں کرتے رہے ۔ انھوں نے یہ پیشکش کی کہ میں بلا معاوضہ پورے رسالہ کے ترجمہ کا کام کروں گا۔ انھوں نے کہا کہ اگر اس سے کام نہ چلے تو ہم مزید مالی تعاون کے حصول کی بھی کوشش کریں گے۔ یہ واقعات بہت حوصلہ افزا ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو انگریزی الرسالہ کا بند ہونا منظور نہیں۔ اس لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے لوگوں کے دلوں میں ڈالا جا رہا ہے کہ وہ تعاون کر کے اس کے جاری رکھنے کا انتظام کریں۔ ۷ فروری ۱۹۸۹ء شفیع الدین صاحب (ایم اے) ملاقات کے لئے آئے۔ انھوں نے الرسالہ مشن کے سلسلہ میں بعض شبہات کا اظہار کیا۔ اس کا انھیں جواب دیا گیا۔ وہ مطمئن ہو گئے۔ آخر میں میں نے انھیں میوات کا سفر بطوم ہدیہ پیش کی۔ انھوں نے کہا کہ اس پر کچھ نصیحت کے الفاظ لکھ دیجئے۔ میں نے حسب ذیل الفاظ لکھ دئے : "دلیل کے آگے جھکنا خدا کے آگے جھکنا ہے ۔ وہی شخص خدا کو پاتا ہے جو دلیل کے آگے جھکنے پر راضی ہو، خواہ وہ اس کی خواہش کے خلاف ہو، خواہ اس کو ماننے میں اس کی أنا پر بلڈوزر چل جائے۔" پھر میں نے کہا کہ مجھ میں اور دوسرے لوگوں میں یہ فرق ہے کہ وہ لوگ دوسروں کے اوپر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page