آغازِ کلام
Urdu book, p. 300
By Maulana Wahiduddin Khan
آپ قرآن کو صرف تلاوت کے طور پر نہ پڑھئے بلکہ سمجھ کر پڑھئے تو آپ دیکھیں گے کہ قرآن میں مکھی مچھر کی مثالیں ہیں۔ زمین اور آسمان کی مثالیں ہیں۔ اسی طرح قرآن میں فرعون اور نمرود کی مثالیں ہیں۔ عاد اور ثمود کی مثالیں ہیں۔ یہود اور نصاریٰ کی مثالیں ہیں۔ ان مثالوں کا ذکر کرکے قرآن میں سبق کا پہلو نکالا جاتا ہے۔ یہی انداز الرسالہ میں اختیار کیا گیا ہے۔ اس میں مختلف قسم کے واقعات کھولے کر ان سے سبق کا پہلو نکالا جاتا ہے۔ یہ تو عین قرآنی انداز ہے۔ اس میں آخر اعتراض کی کیا بات ہے۔ وہ چپ ہوگئے۔ ۲۱ مئی ۱۹۹۰ پاکستان کے اخبار نوائے وقت (۲۰ مئی ۱۹۹۰ء) کے صفحہ اول پر کشمیر میں بھارتی درندوں کے ظلم دستم کا ذکر ہے۔ دوسری طرف یہی اخبار پاکستانیوں کے اوپر پاکستانیوں کے ظلم کی خبروں سے بھی بھرا ہوا ہے۔ مثال کے طور پر پہلے صفحہ کی پہلی خبر سندھ میں فساد کے بارہ میں ہے۔ اس کی تین سطروض کی سرخی کے الفاظ یہ ہیں : حیدر آباد سندھ پر دوسرے روز بھی راکٹوں کی بارش ۔ آٹھ افراد ہلاک ۔ بے شمار مکان تباہ ہوگئے۔ ۲۵ سے زائد افراد زخمی۔ غیر سندھیوں کی دکانوں کو لوٹنے کے بعد آگ لگادی گئی ۔ قومی شاہراہ کو آٹھ گھنٹہ تک بندر رکھا گیا۔ ایک رکشا والے کو زندہ جلا دیا گیا۔ پولیس نے سندھیوں پر گولی چلانے سے انکار کر دیا۔ اعلیٰ افسر کا حکم ماننے کے بجائے ہتھیار پھینک دئے۔ متاثرہ خاندانوں کی حیدر آباد سے نقل مکانی۔ مساجد سے اعلان ہوتے رہے کہ ہم سندھ کی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں : حقیقت یہ ہے کہ یہ بھارتی درندوں یا پاکستانی ظالموں کی بات نہیں، یہ مسلمانوں کے لیڈروں کی ناقابل بیان نادانی کے نتائج ہیں جو سرحد کے دونوں طرف نظر آرہے ہیں۔ یہ تقسیم کی مجنونانہ سیاست کے نتائج ہیں جو دونوں طرف کے مسلمان بھگت رہے ہیں اور شاید ابھی نامعلوم مدت تک بھگتے رہیں گے۔ ۱۱ اپریل ۱۹۹۰ کو دہلی کے تمام اخباروں میں پہلے صفحہ کی نمایاں خبر یہ تھی کہ پروفیسر شیرا حق کو کشمیری دہشت گردوں نے قتل کر دیا۔ آج کے اخبارات میں پہلے صفحہ کی اہم خبر یہ ہے کہ میر واعظ مولوی فاروق

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader