آغازِ کلام
Urdu book, p. 301
By Maulana Wahiduddin Khan
تین نوجوان ملاقات کے لئے آئے۔ وہ جب میر واعظ سے ملنے کے لئے ملاقات کے کمرہ میں داخل ہوئے تو انہوں نے ریلو اور نکال لیا۔ پندرہ گولیوں سے انہیں چلنی کر کے بھاگ گئے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کشمیر کے نادان نوجوانوں کی تشددانہ تحریک ناکام ہو چکی ہے۔ وہ "ہندو کشی" سے مایوس ہو کر "مسلم کشی" کی سطح پر اتر آئے ہیں۔ اب تک بظاہر کشمیر کی نام نہاد تحریک کا رخ حکومت ہند کی طرف تھا، اب ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کشمیری مختلف گروہ بن کر آپس میں لڑیں گے۔ نادانی کے تحت اٹھائی ہوئی تحریک کا انجام ہمیشہ یہی ہوتا ہے۔ ۲۳ مئی ۱۹۹۰ء یہ ۱۸ نومبر ، ۷۹ کا واقعہ ہے۔ میں مانو پر دیوار (آصف علی روڈ) کی میٹنگ میں گیا تو میں نے دیکھا کہ موتی رام صراف وہاں ہیں اور خلاف معمول ایک پپتول اپنے کندھے سے لڑکائے ہوئے ہیں۔ دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ موتی رام صراف کے مکان کے پاس پارک میں کچھ ہندوؤں نے ایک مندر بنا لیا ہے اور وہاں گھنٹہ بجانا شروع کر دیا ہے۔ موتی رام صراف نے اس کو پارک سے ہٹانے کے لئے مقدمہ کر دیا ہے۔ وہ لوگ بچوں کو مارنے کی دھمکی دے رہے ہیں، اس لئے موتی رام ہر وقت پستول اپنے ساتھ رکھتے ہیں۔ میں نے موتی رام سے کہا کہ آپ اس مقابلہ میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔ محلہ والے آپ کا ساتھ نہیں دیں گے، اور جہاں تک اجازت کا سوال ہے، وہ لوگ کسی نہ کسی طرح ڈی ڈی اے سے اجازت حاصل کر لیں گے۔ موتی رام نے بگڑ کر کہا : آپ نے نہ مانو پر دیوار کو سمجھا اور نہ قرآن کو سمجھا۔ آخر کار وہی ہوا۔ مندر بنانے والے کامیاب رہے اور موتی رام شکست کھا کر چپ ہو گئے۔ ہندو سماج اور مسلم سماج دونوں کا آج یہی حال ہے۔ دونوں میں بہت بڑی تعداد ایسی ہے جو خرافات کو پسند نہیں کرتی، مگر خرافاتی لوگوں کے شر سے ڈر کر ہر ایک نے خاموشی اختیار کر لی ہے۔ پرتاپ گڑھ (یوپی) کے دو صاحبان ملنے کے لئے آئے۔ انہوں نے بتایا کہ اس علاقہ میں سید

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader