Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 302

By Maulana Wahiduddin Khan

محمد امین نصیر آبادی ایک بزرگ گزرے ہیں۔ ہندوستان کی آزادی (۱۹۴۷) سے پہلے ان کا انتقال ہو گیا۔ پر تاب گڑھ میں ان کا اکثر دورہ ہوتا تھا۔ یہاں کے عوام میں ان کے بارے میں طرح طرح کے قصے مشہور ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ وہ بہت جلالی آدمی تھے۔ وہ داڑھی منڈوں سے مصافحہ نہیں کرتے تھے۔ کسی کو دیکھتے کہ اس کی مونچھیں بڑی بڑی ہیں تو اس کو پکڑ کر قینچی سے اس کی مونچھیں کاٹ دیتے ۔ پالکی پر سفر کرتے تھے۔ ایک مرتبہ وہ پرتاب گڑھ آئے۔ یہاں ایک سلمان تھانہ دار تھا جو داڑھی مونڈتا تھا اور بڑی بڑی مونچھیں رکھتا تھا۔ وہ ملاقات کے لئے آیا۔ بزرگ موصوف نے حسب عادت قینچی نکالی اور اس کی مونچھ کاٹ دینا چاہا۔ تھانہ دار کو اپنے عہدہ اور طاقت پر ناز تھا، اس نے مزاحمت کی۔ بزرگ اس کو پٹخ کر اس کے سینہ پر چڑھ گئے اور قینچی سے اس کی مونچھ کو کاٹ دیا۔ بعد کو کسی نے تھانہ دار سے پوچھا کہ تم تو اتنے طاقتور ہو، تم نے کیوں اپنی مونچھ کٹوالی۔ اس نے جواب دیا کہ میں نے دیکھا کہ میرے دائیں اور بائیں ایک ایک شیر ہیں، ایسی حالت میں میں کیا کر سکتا تھا۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان اسی قسم کے جھوٹے قصے کہانیوں میں مشغول ہیں۔ یہی سب سے بڑی وجہ ہے جس کی بنا پر ان کے اندر حقیقت پسندانہ فکر پیدا نہ ہوسکا۔ ۲۵ مئی ۱۹۹۰ ۱۹۸۰ میں دارالعلوم دیوبند میں انقلاب آیا۔ "قاسمی گروپ" کی جگہ "مدنی گروپ" دارالعلوم پر قابض ہو گیا ۔ اس انقلاب میں مولانا وحید الزماں کیرانوی نے قائدانہ رول ادا کیا تھا۔ مگر اب مولانا اسعد مدنی نے ان کو دارالعلوم سے نکال دیا ہے۔ اس سلسلہ میں مولانا وحید الزماں کے حامی دوڑ دھوپ کر رہے ہیں۔ آج مولانا عبد اللہ طارق نے بتایا کہ وہ ایک وفد لے کر بذریعہ کار علی گڑھ گئے، تاکہ دارالعلوم کی مجلس شوری کے بعض ارکان سے ملیں اور انھیں اس ظلم" کے خلاف آواز اٹھانے کے لئے تیار کریں۔ میں نے کہا کہ آپ لوگوں کی یہ دوڑ دھوپ بالکل بے فائدہ ہے۔ یہ تو وہی ہوا جو تاریخ میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page