آغازِ کلام
Urdu book, p. 304
By Maulana Wahiduddin Khan
طرف مسائل میں اضافے کئے ، مگر کوئی ایک مسئلہ بھی حل نہیں کیا۔ میرے لڑکے ڈاکٹر ثانی اثنین خاں کا نکاح ۴ اکتوبر ۱۹۸۴ء کو ہوا۔ ابتداً اس کے یہاں تین لڑکیاں ہوئیں۔ اس کے بعد ۲۰ جنوری ۱۹۹۰ کو ایک لڑکا پیدا ہوا۔ اس کا نام میرے والد کے نام پر سلمان فرید رکھا گیا ۔ بچہ نہایت تندرست اور خوبصورت تھا۔ جو شخص دیکھتا اس کی تعریف کرتا۔ مگر کل وہ اچانک بیمار ہوا ، اور آج صبح ۹ بجے گنگا رام اسپتال نئی دہلی، میں اس کا انتقال ہو گیا۔ یہ واقعہ اتنا عجیب ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے کہ اس کی مصلحت کیا ہے۔ آج دوپہر بعد نظام الدین کے قبرستان میں اس کی تدفین ہوئی۔ جب ہم لوگ قبرستان پہنچے اور میں نے اس کی لاش گاڑی سے نکال کر اپنے ہاتھ پر لی اور اس کو اٹھاتے ہوئے قبر کی طرف چلا تو بے اختیار میرے دل نے کہا: جو مجھ کو اٹھاتا تھا اس کو آج میں اپنے بوڑھے ہاتھوں سے اٹھارہا ہوں۔ خدا کے مقدرات بھی کیسے عجیب ہیں۔ ۲۸ مئی ۱۹۹۰ء جماعت اسلامی ہند کے سابق امیر مولانا ابواللیث ندوی جماعت کی امارت سے الگ ہو گئے ہیں۔ مولانا محمد سراج الحسن صاحب جماعت کے نئے امیر مقرر ہوئے ہیں۔ سہ روزہ دعوت (۲۸ مئی ۱۹۹۰ء) کی ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ نئے امیر کی صدارت میں جماعت کی مجلس شوریٰ کا اجلاس دہلی میں ہوا۔ اس میں جو فیصلے کئے گئے، ان میں سے ایک یہ ہے کہ مولانا جلال الدین انصعرعری کو نائب امیر برائے تربیت مقرر کیا گیا ہے۔ (دسمبر ۱۹۹۰ میں مولانا ابواللیث صاحب کا انتقال ہو گیا)۔ میرے نزدیک یہ تقرر سادہ لوحی کے سوا اور کچھ نہیں ۔ جماعت اسلامی کے سنجیدہ حلقہ میں پچھلے پچاس برس سے یہ محسوس کیا جاتا رہا ہے کہ جماعت کے افراد میں سیاسی ذہن تو خوب پیدا ہو جاتا ہے ، مگر روحانی پہلو بالکل کمزور رہتا ہے۔ غالباً ۱۹۵۳ میں مرکز جماعت (رامپور) میں ایک شعبہ تربیت قائم ہوا۔ اس کے انچارج مولانا سید حامد علی تھے۔ اس کے تحت پندرہ روزہ تربیتی پرو گرام چلایا گیا۔ میں اس کے پہلے بیچ میں شامل تھا۔ مگر چند ہی مہینے میں وہ بے فائدہ قرار دے کر ختم کر دیا گیا۔ اب اسی مقصد کے لئے نائب امیر تربیت کا تقرر کیا گیا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader