Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 305

By Maulana Wahiduddin Khan

تعبیر کی غلطی" میں میں اس کو تفصیل کے ساتھ لکھ چکا ہوں کہ جماعت اسلامی کے افراد میں روحانی پہلو پیدا نہ ہونے کا سبب ان کی سیاسی تفکیر ہے۔ مولانا ابو الکلامی مودودی کا نظریہ جس پر جماعت اسلامی اٹھی ہے، وہ عین اپنی فطرت کے اعتبار سے سیاسی ذہن بناتا ہے۔ اس لئے جماعت کے افراد میں روحانیت لانے کے لئے سب سے پہلے اس سیاسی نظریہ کی غلطی کا اعلان کرنا ہوگا۔ ہندو قوم کے افراد میں جو مالی کپشن ہے، اس کے خلاف ان کے مصلحین برابر لکھتے اور بولتے رہتے ہیں۔ مگر ایک فیصد بھی اس میں کمی نہ آسکی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس مالی کرپشن کا سبب یہ ہے کہ ہندو عقیدہ میں دولت ایک دیوی ہے۔ جب تک اس مشترکانہ عقیدہ کو ختم نہ کیا جائے اس وقت تک ہندوؤں کا مالی کرپشن ختم نہیں ہوسکتا۔ اسی طرح جب تک ابو الکلامی مودودی کے سیاسی نظریہ کو ترک نہ کیا جائے، جماعت کے افراد میں روحانی مزاج نہیں لایا جا سکتا۔ ۲۹ مئی ۱۹۹۰ "ٹائمس آف انڈیا (۲۶ مئی ۱۹۹۰) میں بمبئی کے مسٹر بینکشور کا خط چھپا ہے۔ انھوں نے پر فخر انداز میں لکھا ہے : If democracy has succeeded at all in any Muslim-dominated country in the world, it has only been for a short while in Pakistan and Bangladesh. Thanks to the influence of India's example... The Muslim League, which fought for Pakistan, still exists in India. Can you ever imagine the Hindu mahasabha being allowed to function in Pakistan or Bangladesh? (S.S. Bankeshwar) اگر جمہوریت کبھی کسی مسلم اکثریت کے ملک میں کامیاب ہوئی ہے تو وہ صرف مختصر مدت کے لئے پاکستان اور بنگلہ دیش میں ہوئی ہے، اور وہ بھی ہندوستان کی مثال کی بدولت جو کہ اب بھی یہاں پائی جارہی ہے۔ مسلم لیگ جو کہ پاکستان کے لئے لڑی تھی، وہ اب بھی ہندوستان میں موجود ہے۔ کیا آپ تصور کر سکتے کہ ہند و مہاسبھا کو پاکستان یا بنگلہ دیش میں کام کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔ اس کو پڑھ کر مجھے خیال آیا کہ اسی طرح مسلمانوں نے کچھ امتیازی باتیں اپنے موافق تلاش کرلی ہیں اور وہ ان پر فخر کرتے ہیں مثلاً یہ کہ ہندوستان میں برابر ہندو مسلم فسادات ہورہے ہیں۔ مگر پاکستان میں ۱۹۷۲ کے بعد کوئی ہندو مسلم فساد نہیں ہوا) ہندو ہندو مذہب کا نام لیتے ہیں اور مسلمان اسلام کا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ دونوں کا مذہب صرف ایک ہے، اور وہ فخر ہے۔ دونوں ہی قومی فرضیہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page