آغازِ کلام
Urdu book, p. 306
By Maulana Wahiduddin Khan
جی رہے ہیں، البتہ دونوں الگ الگ الفاظ بولتے ہیں۔ دار العلوم دیو بند کے ایک طالب علم عبید اللہ احمد حیدر آبادی (۲۰ سال) ملاقات کے لئے آئے۔ ان کو نصیحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ اگر آپ زندگی میں بڑی کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہیں تو محنت کیجئے ۔ محنت کے بغیر یہاں کوئی ترقی حاصل نہیں کی جاسکتی۔ اس دنیا کا اصول ایک لفظ میں یہ ہے ۔ کم محنت کم ترقی، زیادہ محنت زیادہ ترقی۔ ۳۱ مئی ۱۹۹۰ حیدر آباد کے ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے شکایت کے انداز میں کہا کہ پولیس ایکشن کے بعد جب ہندوستان نے حیدر آباد پر قبضہ کیا تو اس کے بعد منصوبہ بند طور پر مسلمانوں کو سرکاری ملازمتوں سے نکال دیا گیا۔ میں نے کہا کہ یہ تو عین وہی فعل ہے جو اس سے پہلے خود مسلمان کر چکے ہیں۔ ۱۹۴۷ سے پہلے کے دور میں جب حیدر آباد میں مسلمانوں کا اقتدار تھا تو تمام سرکاری ملازمتیں مسلمانوں کو دے دی گئی تھیں ۔ اب ۱۹۴۷ کے بعد جب دوسرے فریق کی باری آئی تو وہ یہی طریقہ مسلمانوں کے ساتھ اختیار کر رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ اس کے خلاف احتجاج اور فریاد کرنے سے کوئی فائدہ نہیں۔ آپ حیدر آباد کے مسلمانوں سے کہئے کہ تم کو اگر سرکاری ملازمتیں نہیں مل رہی ہیں تو اس پر افسوس نہ کرو بلکہ تجارت کے میدان میں داخل ہو کر ترقی کرو۔ اور تجارت کا میدان یقیناً ملازمت کے میدان سے بہت زیادہ بڑا ہے۔ یکم جون ۱۹۹۰ قرآن میں منکرین کے بارہ میں کہا گیا ہے کہ جب ان کو قرآن کی آیتیں سنائی جاتی ہیں تو وہ متکبرانہ طور پر اس کو نظر انداز کر دیتے ہیں ۔ لیکن اگر وہ آیات قرآن میں کوئی ’شئی‘ جان لیں تو فوراً اس کا استہزاء کرنے لگتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لئے سخت عذاب ہے۔ (الجاشیہ ۸-۹) یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرآن میں ایسی ’شئی‘ رکھی ہی کیوں گئی جس میں استہزاء کی گنجائش ہو۔ اس کا مقصد آزمائش ہے۔ تاکہ خدا قیامت میں ان سے کہے کہ تم جب شوشہ والی بات کو جاننے میں اتنے ذہین تھے تو حقائق کو جاننے میں اتنے بے وقوف کیوں بن گئے؟

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader