آغازِ کلام
Urdu book, p. 307
By Maulana Wahiduddin Khan
دہلی کے انگریزی ہفت روزہ نیشن (یکم جون ۱۹۹۰) میں قدیم دہلی کی کچھ شخصیتوں کا حال چھپا ہے۔ ان میں سے ایک لالہ کیدار ناتھ ہیں۔ وہ لالہ رام جس کے لڑکے تھے۔ لالہ رام جس دہلی کے ایک حلوائی تھے۔ ان کے لڑکے لالہ کیدار ناتھ نے تعلیم حاصل کی اور برطانوی دور میں سسٹن جج بنے۔ لالہ کیدار ناتھ نے تعلیم کی اہمیت کو سمجھا۔ انھوں نے اپنے باپ کے نام پر رام جس کالج قائم کیا۔ اس کے علاوہ بہت بڑی تعداد میں دہلی میں اسکول کھولے۔ حتیٰ کہ ان کے قائم کردہ پرائمری اسکولوں کی تعداد میونسپل پرائمری اسکولوں سے بھی زیادہ ہو گئی۔ لالہ کیدار ناتھ نے اپنی پوری زندگی تعلیم کے لئے وقف کر دی۔ اپنی کمائی اور اپنے باپ کی کمائی سب انھوں نے اسی راہ میں لگا دی۔ حتیٰ کہ اپنا گھر بھی دے دیا۔ آخر عمر میں وہ ایک ہوسٹل میں رہتے تھے اور عام طلبہ کی طرح خوراک اور قیام کے لئے پندرہ روپیہ ماہانہ ادا کرتے تھے : The founder of the college gave away all his savings to these institutions. He himself lived in the hostel along with the Students and paid Rs. 15 for monthly boarding and lodging. موجودہ زمانہ میں ہندوؤں میں ایسے ہزاروں افراد پیدا ہوئے۔ مگر مسلمانوں میں غالباً کوئی بھی نہیں۔ سرسید نے بھی صرف کالج اور یونیورسٹی کی سطح پر سوچا۔ ابتدائی اسکولوں کی اہمیت کو وہ بھی نہ سمجھ سکے۔ ۳ جون ۱۹۹۰ الطاف حسین حالی (۱۹۱۴- ۱۸۳۷) نے سو سال پہلے اپنی مشہور کتاب 'مسدس' لکھی۔ اس میں اس وقت کے مسلمانوں کی حالت زار کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا: اے خاتمہ خاصان رسل وقت دعا ہے امت پہ تری آکے عجب وقت پڑا ہے۔ اس کے بعد پچھلے سو برس کے درمیان مسلمانوں کے اندر بے شمار تحریکیں اٹھیں۔ انھوں نے زلزلہ خیز ہنگامے برپا کئے اور ہمالیائی شخصیتیں پیدا کیں۔ انھیں میں سے ایک پاکستان کی تحریک بھی ہے جس کے بانی کو پاکستان میں صرف "قائداعظم" کہا جاسکتا ہے۔ کیوں کہ ان کے نام کے ساتھ (مسٹر محمد علی جناح) کہنا ان کی توہین ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader