Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 308

By Maulana Wahiduddin Khan

مگر سو برس بعد آج بھی مسلمانوں کی حالت ویسی ہی ہے یا اس سے بھی بدتر ۔ پاکستان کے روزنامہ نوائے وقت (۳۰ مئی ۱۹۹۰) میں اس موضوع پر ایک مضمون چھپا ہے۔ اس مضمون کا عنوان دوبارہ حسب ذیل ہے: امت پہ تری آ کے عجب وقت پڑا ہے اس مضمون کا پہلا پیراگراف یہ ہے: ہر باشعور مسلمان کو یہ احساس ہے کہ امت مسلمہ دنیا بھر میں ظالم اور جابر قوتوں کی مشق ستم بنی ہوئی ہے۔ ہر سمت سے مسلمانوں پر ایک متحد اور منظم یلغار ہے۔ جس کے پیچھے مسلمانوں کو نیست و نابود کرنے کا جذبہ کارفرما ہے۔ خون مسلم کی اس قدر ارزانی شاید چشم فلک نے اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی ہوگی۔ (صفحہ ۳) سوال یہ نہیں ہے کہ مسلمانوں کے خلاف ان کے دشمن کیوں سرگرم ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ یہ دشمن مسلسل اپنے منصوبوں میں کامیاب ہو رہے ہیں۔ اور مسلمانوں کی تمام جوابی کوششیں حبط اعمال کا شکار ہوتی چلی جا رہی ہیں۔ ۴ جون ۱۹۹۰ سعودی حکومت اور سوویت روس کے درمیان سفارتی تعلقات قائم نہیں ہیں۔ ایک ملک کا جہاز دوسرے ملک میں اترنا اب تک مطلق ممنوع تھا۔ مگر حال میں سوویت روس کے اندر جو تبدیلیاں ہوئی ہیں، اس کے بعد نئے واقعات سامنے آرہے ہیں۔ مئی ۱۹۹۰ میں سوویت یونین کی ایروفلاٹ (Aeroflot) نے جدہ اور ماسکو کے درمیان ۴۸ پروازیں کیں۔ اور قرآن کے ایک ملین نسخے جدہ سے ماسکو پہنچائے۔ قرآن کے یہ نسخے سعودی کنگ فہد نے روسی مسلمانوں کو ہدیہ دئے ہیں۔ اور وہ تاشقند، سمرقند ، قازان اور باکو وغیرہ میں رہنے والے مسلمانوں کو دئے جائیں گے۔ اس معاملہ کو طے کرنے کے لئے ایک سعودی ٹیم ماسکو گئی تھی جس کے قائد یوسف اخضر تھے۔ کنگ فہد نے اس کے لئے ایروفلاٹ کو خصوصی اجازت دی کہ وہ جدہ میں اتر سکے ۔ نیز اس کے جہازوں کو ایئر پورٹ ٹیکس سے مستثنیٰ کر دیا گیا۔ یہ واقعہ علامتی طور پر بتاتا ہے کہ موجودہ زمانہ میں کیسی عجیب تبدیلیاں ظہور میں آئی ہیں جو عین اسلامی دعوت کے حق میں ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page