آغازِ کلام
Urdu book, p. 309
By Maulana Wahiduddin Khan
خواجہ حسن نظامی کو مولانا محمد علی جوہر نے اپنے اخبار میں لکھا تھا کہ وہ برٹش ایجنٹ ہیں (نیڈن ویکلی، نئی دہلی، ۱۔۱۵ جون ۱۹۹۰) موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میں یہ طریقہ عام رہا ہے۔ ابوالکلام آزاد کو ہندوؤں کا ایجنٹ کہا گیا، محمد علی جناح کو انگریزوں کا ایجنٹ۔ وغیرہ۔ تنقید کا یہ طریقہ نہایت لغو ہے۔ یہ غیر اسلامی بھی ہے اور اسی کے ساتھ حد درجہ سطحی بھی۔ مسلمانوں میں اس طرز تنقید کا رواج بتاتا ہے کہ مسلمان اپنے کردار کے اعتبار سے کتنا زیادہ پیچھے جا چکے ہیں۔ ۶ جون ۱۹۹۰ رنگون (Rangoon) برما کا مشہور شہر ہے۔ اب اس کا نام یانگون (Yangon) کر دیا گیا ہے۔ یہ حقیقہاً تبدیلی نہیں ہے، بلکہ سابقہ نام کی طرف واپسی ہے۔ برمی زبان میں اس شہر کو یانگون کہا جاتا تھا۔ انگریزوں نے اپنے تلفظ کے مطابق، اس کو رنگون لکھنا شروع کر دیا۔ اس کے بعد وہ رنگون کے نام سے مشہور ہو گیا۔ اب قومی حکومت نے دوبارہ اس کو یانگون کہنا شروع کر دیا ہے۔ تلفظ کے فرق کا یہ مسئلہ ہر زبان میں ہوتا ہے۔ یہی فرق عربی زبان میں بھی پایا جاتا تھا۔ ایک ہی لفظ کو مختلف قبائل مختلف تلفظ کے ساتھ بولتے تھے۔ چنانچہ قرآن نازل ہوا تو لوگوں نے اس کو اپنے لہجے میں لکھنا شروع کر دیا۔ حضرت ابو بکر کے زمانہ میں جب قرآن با ضابطہ طور پر لکھا گیا تو اس کو صرف قریش کے لہجہ پر لکھا گیا۔ بقیہ لہجوں پر لکھے ہوئے قرآن کے حصوں کو جلا دیا گیا۔ اس جلانے کی وجہ یہی لہجہ کا اور تلفظ کا فرق تھا۔ اگر ایسا نہ کیا جاتا تو قرآن کے بارہ میں لوگوں کے درمیان غیر ضروری طور پر بے شمار اختلافات پیدا ہو جاتے۔ ۷ جون ۱۹۹۰ پاکستان کے ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ انڈیا میں مسلمانوں کے خلاف امتیاز (Discrimination) پایا جاتا ہے۔ اور یہی یہاں کے مسلمانوں کا اصل مسئلہ ہے۔ یہ چیز ان کی ترقی کو روک کے ہوئے ہے۔ میں نے کہا کہ مجھے اس سے اتفاق نہیں۔ ہندوستان کے مسلمانوں کا اصل مسئلہ دوسروں کا تعصب اور امتیاز نہیں، بلکہ ان کی اپنی ذہنی پسماندگی (Intellectual backwardness) ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ تو ایک نیا نقطہ نظر ہے۔ معاشی پسماندگی اور تعلیمی پسماندگی کا لفظ ہم نے سنا تھا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader