آغازِ کلام
Urdu book, p. 31
By Maulana Wahiduddin Khan
بلڈوزر چلانے کا نعرہ لگاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ (Bulldoze them all)۔ اس کے برعکس میرا پیغام یہ ہے کہ آدمی خود اپنے آپ پر بلڈوزر چلائے۔ دوسروں کا نعرہ احتساب کائنات‘ ہے اور میرا پیغام” احتساب خویش“: ۸ فروری ۱۹۸۹ ۳۰ مارچ ۱۹۸۷ کو ہندوستان کے مسلم لیڈروں نے بابری مسجد ایودھیا کے نام پر ریلی نکالی۔ مسلمان بڑی تعداد میں آکر نئی دہلی میں جمع ہو گئے۔ اس وقت مسلمانوں نے ریلی کی تعداد کو نہایت پر فخر انداز میں پیش کیا تھا : ڈیڑھ لاکھ مسلمانوں کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر، ہندوستانی مسلمانوں کا سب سے بڑا اجتماع: اس کے بعد ہندو پریس نے مسلسل ماحول بنانا شروع کیا۔ یہاں تک کہ فروری ۱۹۸۹ کا کمبھ میلا (الہ آباد) آگیا۔ ہندوؤں کا قومی جوش اس موقع پر ظاہر ہوا ۔ اور ملک بھر سے ہندوؤں کی اتنی بڑی تعداد الہ آباد دپریاگ) میں گنگا اشنان کے لئے جمع ہوئی کہ مسلمانوں کا ہر اجتماع اس کے مقابلہ میں چھوٹا ہو کر رہ گیا۔ قومی آواز (۷ فروری ۱۹۸۹) نے اس میلے کی سرخی ان الفاظ میں لگائی ہے : کمبھ میلہ میں ڈیڑھ کروڑ عقیدت مندوں کا اشنان، سوم وتی اماوس کے مقدس موقع پر بے نظیر اجتماع ٹائمز آف انڈیا (۷ فروری ۱۹۸۹) کی سرخی کے الفاظ یہ تھے : Biggest human gathering on earth. اصل یہ ہے کہ مقداری نوعیت کی چیزوں میں تقابل کرناہی سرے سے غلط ہے۔ تقابل در حقیقت معنوی چیزوں میں ہونا چاہئے نہ کہ مقداری چیزوں میں۔ ۹ فروری ۱۹۸۹ کچھ لوگ ملاقات کے لئے آئے۔ ان سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا ۔ جو چپ رہنا جانے، وہی بولنا جانتا ہے۔ جو پیچھے ہٹنا جانے، وہی آگے بڑھنا جانتا ہے۔ پھر میں نے کہا کہ یہ کوئی شاعری اور لفظی نہیں۔ یہ زندگی کی سنگین حقیقت ہے۔ اس کا راز یہ ہے کہ بولنا اور عمل کرنا دونوں شعوری افعال ہیں۔ اگر آپ محض جذبات کے تحت بولیں تو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader