Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 310

By Maulana Wahiduddin Khan

مگر ذہنی پسماندگی کا لفظ اس سے پہلے کبھی نہیں سنا۔ میں نے کہا کہ ذہنی پسماندگی سے مراد یہ ہے کہ آدمی فکری محدودیت میں مبتلا ہو۔ اس کی سوچ اس قابل نہ ہو کہ وہ حقائق کو سمجھے اور اس کے مطابق اپنی زندگی کی منصوبہ بندی کرے۔ مثلاً اس امتیاز والی بات کو لیجئے مجھے اس سے اختلاف نہیں کہ ہندوستان میں وہ چیز پائی جاتی ہے جس کو آپ جیسے لوگ امتیاز سے تعبیر کرتے ہیں۔ مگر جب ہم مختلف سماجوں کا تقابل کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس قسم کا امتیاز ہر سماج میں پایا جاتا ہے۔ وہ جس طرح ہندوستان میں ہے اسی طرح پاکستان اور عرب ممالک میں ہے۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ امتیاز زندگی کی ایک ناگزیر حقیقت ہے نہ کہ سادہ معنوں میں ایک کے خلاف دوسرے کا امتیاز۔ ۸ جون ۱۹۹۰ پاکستان کی ایک انگریزی جرنلسٹ مسز نسیم زہرہ انٹرویو کے لئے آئیں ۔ میں نے وہی باتیں کہیں جو میں الرسالہ میں لکھتا رہتا ہوں۔ انھوں نے کہا کہ آپ ایسی باتیں کرتے ہیں گویا کہ ہندوستان میں مسلمانوں کا کوئی مسئلہ نہیں۔ مگر میں نے دہلی میں مسٹر کے آر ملکا نی اور دوسرے ہندو دانشوروں سے بات کی۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم کو مسلمانوں سے اپنا تاریخی بدلہ چکا نا ہے: We have to settle, historical scores. میں نے کہا کہ میں جانتا ہوں کہ وہ لوگ ایسا کہتے ہیں۔ مگر میں ان باتوں کو نہ کوئی حقیقی خطرہ سمجھتا اور نہ مسلمانوں کی ترقی کی راہ میں کوئی واقعی رکاوٹ۔ میں نے کہا کہ یہ دنیا مقابلہ کی دنیا ہے۔ یہاں اس طرح کا چیلنج ہمیشہ باقی رہے گا۔ آپ اس کو کبھی ختم نہیں کرسکتے۔ آپ کا اصل کام یہ ہے کہ حسن تدبیر اور اپنی منصوبہ بندی کے ذریعہ اپنے آپ کو اتنا طاقت ور بنا ئیں کہ لوگوں کی اس طرح کی باتیں بے اثر ہو کر رہ جائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف عرب کے لوگ اس سے بھی زیادہ سخت باتیں کہتے تھے مگر آپ نے اپنے اعلیٰ منصوبوں کے ذریعہ اس کو بے اثر بنا دیا۔ ۱۹۸۲ میں لندن کے سفر میں میری ملاقات ایک ہندوستانی مسلمان سے ہوئی۔ ان سے میری

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page