Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 311

By Maulana Wahiduddin Khan

پہلی ملاقات ان کے مکان پر ہوئی تھی۔ انہوں نے گفتگو کے دوران بتایا کہ ہندوستان کی فلاں یونیورسٹی سے میں نے فلاں سبجیکٹ پر ماسٹر ڈگری لے لی تھی۔ اس لئے مجھے لندن میں آسانی سے کام مل گیا۔ اگر میرے پاس ماسٹر ڈگری نہ ہوتی تو یہاں کوئی معقول کام تلاش کرنا مشکل ہوتا۔ انہوں نے اپنے بچوں کے بارے میں فخر کے ساتھ بتایا کہ وہ وہاں کے اسکولوں میں بات اور پڑھ رہے ہیں۔ اس کے دو دن بعد لندن کے ایک اسلامک سنٹر میں پروگرام تھا۔ اس موقع پر میں نے ’’علم‘‘ کی اہمیت پر کچھ باتیں کہیں اور کہا کہ ہندوستان کے مسلمانوں کے مسئلے کا حل یہ ہے کہ انھیں تعلیم میں آگے بڑھایا جائے ۔ اس کے بعد سوال و جواب کا مرحلہ شروع ہوا۔ مذکورہ صاحب نے سوال و جواب کے وقفہ میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ آپ علم کی باتیں کرتے ہیں ۔ حالاں کہ اب یورپ میں ایسے لوگ پیدا ہو رہے ہیں جو بے علمی (De-learning) کی تبلیغ کر رہے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمارے تمام مسائل علم کی وجہ سے پیدا ہو رہے ہیں ۔ قدیم زمانہ میں جب کہ انسان کے پاس علم کم تھا اس وقت انسان زیادہ پرامن زندگی گزار رہا تھا۔ اس لئے اب، ہمیں سابقہ دور کی طرف واپس جانا چاہئے۔ میں نے سوچا کہ کیسے عجیب ہیں وہ لوگ جو خود اپنا اور اپنے بچوں کا مسئلہ علم کے ذریعہ حل کر رہے ہیں اور دوسرے مسلمانوں کو بے علمی کا سبق دینا چاہتے ہیں ۔ 1990 جون ۱۰ آجکل سندھ (پاکستان) میں آگ لگی ہوئی ہے ۔ مہاجرین کے خلاف نفرت اتنی بڑھ گئی ہے کہ سندھی جہاں انھیں پاتے ہیں، مارتے ہیں ۔ مہاجر مرد اور عورتیں اپنے گھروں سے باہر نکلتے ہوئے ڈرتے ہیں ۔ ہر طرف عدم تحفظ کا احساس چھایا ہوا ہے ۔ پاکستان کی بری فوج کے سربراہ جنرل مرزا اسلم بیگ نے ۲۹ مئی ۱۹۹۰ کو حیدر آباد سندھ کا دورہ کیا جو بدترین فساد کا منظر پیش کر رہا تھا۔ پاکستان کے اخبار وفاق (۳۰ مئی ۱۹۹۰) کے صفحہ اول پر ایک نمایاں خبر میں بتایا گیا ہے کہ جنرل اسلم بیگ جب حیدر آباد سندھ کی سڑکوں سے گزرے تو وہاں سے شہریوں نے نعرے لگائے : المدد المدد ، پاک فوج المدد۔ سندھ کے مسلمان پاکستانی فوج کی مدد کس کے خلاف مانگ رہے تھے ۔ جواب یہ ہے کہ خود وہاں کے مسلمانوں کے خلاف۔ پاکستانی مسلمانوں کا ایک طبقہ پاکستانی مسلمانوں کے دوسرے طبقہ سے اپنے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page