آغازِ کلام
Urdu book, p. 312
By Maulana Wahiduddin Khan
آپ کو سخت خطرہ میں محسوس کرتا ہے، اس لئے وہ فوج کی مدد مانگ رہا ہے۔ پاکستان یہ کہہ کر بنایا گیا تھا کہ مسلمانوں کو ہندوؤں سے خطرہ ہے۔ مگر پاکستان کے ۵۰ سال بعد یہ حال ہے کہ مسلمانوں کو اس سے بھی زیادہ بڑا خطرہ خود اپنے مسلم بھائیوں کی طرف سے پیش آرہا ہے۔ سندھ کی کل آبادی ۲۰ ملین ہے۔ اس میں مہاجرین ۶۰ فیصد ہیں۔ یہ مہاجر زیادہ تر کراچی اور حیدر آباد میں آباد ہیں۔ ۱۹۹۰ء ۱۱ جون ۱۳ مئی ۱۹۹۰ء کو میں فرینکفرٹ سے دہلی آرہا تھا۔ یہ لفتھانسا کا جہاز تھا۔ میں نے ایر ہوسٹس سے کہہ دیا تھا کہ ’ڈرنک‘ میں مجھے صرف فروٹ جوس چاہئے۔ ناشتہ آیا تو ایک چھوٹے سفید پلاسٹک کے گلاس میں عنابی رنگ کا مشروب تھا۔ میں نے سمجھا کہ یہ سیب کا جوس ہے۔ اٹھا کر منھ سے لگایا۔ ایک قطرہ منھ میں گیا تھا کہ سخت کڑوا معلوم ہوا۔ میں نے فوراً گلاس کو ٹرے میں رکھ دیا۔ کچھ دیر کے بعد ایر ہوسٹس آئی۔ میں نے پوچھا کہ کیا یہ شراب ہے۔ اس نے بتایا کہ ہاں یہ انگور کی بنی ہوئی شراب ہے جس کو کاگنیک (cognac) کہتے ہیں۔ میں نے سوچا کہ جب ہلکی شراب اتنی کڑوی ہے تو دوسری شراب کتنی زیادہ کڑوی ہوگی۔ مگر جب کوئی چیز نشہ بن جائے تو آدمی اس کو چھوڑ نہیں پاتا، خواہ وہ فی الحقیقت کتنی ہی تلخ کیوں نہ ہو۔ ۱۹۹۰ء ۱۲ جون ایک مسلمان شاعر نے ”دہلی“ کا مرثیہ لکھا ہے۔ اس کا ایک شعر یہ ہے: داستاں دہلی مرحوم کی اے دوست نہ چھیڑ نہ سنا جائے گا ہم سے یہ افسانہ ہرگز اس شعر میں بظاہر ”دہلی“ کا لفظ ہے۔ مگر اس سے مراد مسلم اقتدار والی دہلی ہے۔ ورنہ دہلی سے مراد اگر دہلی شہر ہو تو دہلی شہر تو آج بھی مزید ترقی یافتہ صورت میں موجود ہے۔ پھر اس کو مرحوم کہنے یا اس کا مرثیہ لکھنے کی کیا ضرورت۔ موجودہ زمانہ کے مسلم رہنماؤں نے مسلمانوں کے اندر جو نفسیات بنائی، وہ تمام تر حکومتی نفسیات ہے۔ موجودہ مسلمانوں کو صرف اس دنیا سے دلچسپی ہے جس میں سلمان حکومت کر رہے ہوں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader