Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 313

By Maulana Wahiduddin Khan

جس دنیا میں مسلمانوں کو سیاسی حکمراں کی حیثیت حاصل نہ ہو اس سے مسلمانوں کو کوئی دلچسپی نہیں۔ یہ نفسیات سراسر باطل ہے۔ مسلمان وہ ہے جو داعی ہو۔ اور داعی بہر حال میں اہل عالم سے محبت کہنے والا ہوتا ہے۔ مسلمانوں کو اپنا یہ سیاسی مزاج بدلنا ہوگا اور اس کے بجائے داعیانہ مزاج اپنے اندر پیدا کرنا ہوگا۔ ورنہ خدا کی دنیا میں ان کے لئے ذلت اور بربادی کے سوا اور کچھ نہیں۔ ۱۳ جون ۱۹۹۰ مہاراشٹر کی حکومت مہاراشٹر کی اردو اکیڈمی (بمبئی) کو اس سے پہلے پانچ لاکھ روپیہ سالانہ کی مالی امداد دیتی تھی۔ مہاراشٹر کے موجودہ وزیر اوقاف مسٹر جاوید خان نے ریاست کے وزیر اعلیٰ شری شرد پوار سے اپیل کی کہ اس امداد میں اضافہ کیا جائے۔ وزیر اعلیٰ نے اس درخواست کو قبول کرتے ہوئے مہاراشٹر کی اردو اکیڈمی کی امداد کو بڑھا کر ۲۵ لاکھ روپیہ سالانہ کر دیا۔ یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے کہ آج بھی ہندوستان میں مسلمانوں کے لئے کتنے زیادہ مواقع حاصل ہیں۔ اگر مہاراشٹر میں ۲۵ لاکھ روپیہ سالانہ کی اس رقم کو اردو کی ترقی کے لئے واقعۃً استعمال کیا جائے تو چند سال میں ریاست کے اندر اردو انقلاب آجائے۔ مگر مجھے امید نہیں کہ اس گراں قدر رقم کا کوئی واقعی فائدہ اردو کو پہنچ سکے گا۔ کیوں کہ اس کے لئے ضرورت ہے کہ لگن اور دیانت داری اور اتحاد کے ساتھ کام کیا جائے، اور یہ چیز موجودہ مسلمانوں کے اندر موجود نہیں۔ ۱۳ جون ۱۹۹۰ میں قرآن کا حافظ نہیں ہوں۔ مگر بار بار پڑھنے کی وجہ سے قرآن کی بیشتر آیتیں مفہوم کے اعتبار سے میرے ذہن میں رہتی ہیں۔ جب بھی کوئی بات پیش آتی ہے تو اس سے متعلق آیت کا خاکہ ذہن میں آ جاتا ہے۔ ایسے مواقع پر کبھی آیت کے تمام الفاظ ذہن میں آتے ہیں اور کبھی آیت کا ایک دو لفظ۔ جب آیت کا ایک دو لفظ ذہن میں آتا ہے تو میں قرآن کا انڈکس ( المعجم المفهرس لافاظ القرآن الكريم) دیکھتا ہوں ۔ اس سے پوری آیت اور اس کا حوالہ فوراً معلوم ہو جاتا ہے۔ جب میں گھر پر ہوتا ہوں تو قرآن کا یہ انڈکس ہر وقت میرے پاس ہوتا ہے اور روزانہ بار بار اس سے مدد لیتا رہتا ہوں۔ ایک بار میں سفر میں تھا۔ کسی موضوع سے متعلق ایک آیت ذہن میں آئی۔ آیت کا مفہوم ذہن میں تھا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page