Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 314

By Maulana Wahiduddin Khan

گمراس کا صرف ایک عربی لفظ مجھے کو یاد تھا۔ میں نے حافظ کی تلاش کی۔ مسجد میں ایک حافظ مل گئے ۔ ان کو میں نے آیت کا ایک لفظ بتایا۔ انھوں نے ایک لمحہ میں پوری آیت پڑھ دی۔ اور بتا دیا کہ کس سورہ میں اور اس کے کس رکوع میں ہے۔ اس تجربہ کے بعد میں نے سوچا کہ مسلمانوں میں قرآن سے رہنمائی کا ذوق نہیں۔ اگر قرآن سے رہنمائی لینے کا ذوق ہو تو یہ حفاظ قرآن کے چلتے پھرتے زندہ انڈکس بن جائیں۔ ہر جگہ اور ہر وقت لوگ ان سے آیتوں کے حوالے پوچھ کر ان کے ذریعہ سے قرآنی رہنمائی لیتے رہیں۔ ۱۵جون ۱۹۹۰ دین کا اصل مقصد انسان کو ربانی انسان بنانا ہے۔ یہی تمام انبیاء کا مشترک مشن تھا۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمہ ایک مزید کام وہ تھا جس کو قرآن میں ختم فتنہ کہا گیا ہے یعنی شرک کا تعلق اقتدار سے توڑ دینا تاکہ توحید کی راہ میں کوئی سیاسی رکاوٹ باقی نہ رہے۔ اس کے نتیجہ میں اسلام کی تاریخ وجود میں آئی اور مسلمانوں کی حکومت زمین کے بڑے رقبہ میں قائم ہوگئی۔ اب حکومت کو چلانے کے لئے قانونی نظام کی ضرورت تھی۔ اس ضرورت نے فقہ لائے اسلام کو پیدا کیا۔ انھوں نے حکومت کا نظام چلانے کے لئے احکام و قوانین کا ایک پورا ڈھانچہ مرتب کر دیا۔ موجودہ زمانہ میں مغربی قوموں کا عروج ہوا اور مسلم حکومتیں براہ راست یا بالواسطہ طور پر ٹوٹ گئیں. مسلمانوں میں اس کا رد عمل ہوا۔ اور دوبارہ حاکمانہ حیثیت حاصل کرنے کے لئے ساری دنیا میں اسلام کے نام پر سیاسی تحریکیں اٹھ کھڑی ہوئیں۔ ان اسباب کے نتیجہ میں تمام مسلمانوں کے ذہن پر سیاسی طرز فکر غالب آگیا ہے۔ پوری مسلم قوم (Power conscious) ہوگئی۔ مسلمانوں کے اس سیاسی مزاج نے ان کو حقیقی اسلام سے دور کر دیا ہے۔ وہ اسلام کے نام پر غیر اسلام میں مبتلا ہیں۔ ذہن کے بگاڑ کا یہ مسئلہ سیکڑوں سال سے چلا آرہا ہے۔ تصوف کی تحریک غالباً یہی تھی کہ مسلمانوں کو دوبارہ سیاسی اسلام سے نکال کر ربانی اسلام کی طرف لایا جائے۔ صوفیا کا یہ مقصد درست تھا مگر اس کے لئے انھوں نے غلط طریق کار اختیار کیا۔ ربانیت حاصل کرنے کا اصل طریق تفکر ہے۔ مگر اس کو انھوں نے اور اپریٹ قائم کر دیا۔ موجودہ زمانہ میں تبلیغی جماعت بھی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page