آغازِ کلام
Urdu book, p. 315
By Maulana Wahiduddin Khan
اس قسم کی اصلاحی کوشش کے طور پر اٹھی۔ مگر اس نے بھی یہ غلطی کی کہ فضائل کو ربانی بیداری کا ذریعہ بنایا۔ حالاں کہ ربانی بیداری کا صحیح ذریعہ ذہنی معرفت ہے۔ اب پہلا کام یہ ہے کہ مسلمانوں میں سیاسی مزاج کو ختم کیا جائے۔ اور اس کی جگہ ربانی مزاج پیدا کیا جائے۔ جب تک یہ ذہنی اصلاح نہ ہو مسلمانوں میں کوئی حقیقی اسلامی بیداری نہیں آسکتی۔ ۱۶ جون ۱۹۹۰ء آرنلڈ ٹوائن بی (۱۸۸۹ء - ۱۹۷۵ء) ایک ممتاز انگریز مورخ ہے۔ (۵۵- ۱۹۲۵ء) میں اس کو غیر معمولی شہرت حاصل ہوئی ۔ مگر اس کے بعد اس کا زوال ہو گیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ یہودی قوم اور یہودی مذہب پر تنقید کرتا تھا۔ وہ اسرائیلی ریاست کا حامی نہ تھا۔ اس نے علانیہ طور پر عربوں کی حمایت کی۔ اس نے یروشلم جانے کے لئے اسرائیلی دعوت نامہ قبول نہیں کیا۔ اس کے نتیجہ میں یہودی اس کے مخالف ہو گئے ۔ یہودیوں کے تعلیم یافتہ لوگوں نے اس کے خلاف کتابیں اور مضامین لکھنا شروع کیا۔ اس کے یہودی مخالف خیالات (Anti-Jewish view) کی بنا پر اس کو اتنا زیادہ بد نام کیا گیا کہ لائق ہونے کے با وجود اس کو نہ سر کا خطاب ملا اور نہ نوبل انعام دیا گیا۔ آرنلڈ ٹوائن بی اسلام سے متاثر تھا۔ اس نے اپنی ایک کتاب میں لکھا ہے کہ مستقبل کا مذہب اسلام ہوگا۔ عرب - اسرائیل معاملہ میں وہ ہمیشہ عربوں کی حمایت کرتا تھا۔ اس نے ہندوستان اور پاکستان کا سفر کیا اور ایک کتاب (Between Oxus and Jamuna) لکھی۔ اس میں وہ ہندوستان کی جمہوریت کے مقابلہ میں صدر ایوب خاں کی بیسک ڈیمو کریسی کی تعریف کرتا ہے۔ وغیرہ (ہندوستان ٹائمس، ۳ جون ۱۹۹۰ء) ان تمام باتوں کے با وجود کسی قابلِ ذکر مسلمان نے اس سے دعوتی ملاقات نہیں کی۔ در نہیں ممکن ہے کہ وہ اسلام قبول کر لیتا۔ مسلم شخصیتوں کے اندر یہی دعوتی جذبہ کا فقدان موجودہ مسلمانوں کا اصل مسئلہ ہے۔ حتیٰ کہ مسلم دنیا میں ایسے لوگ بہت کم ملیں گے جنھوں نے آرنلڈ ٹوائن بی اور اس قسم کے دوسرے لوگوں کا تفصیلی مطالعہ کیا ہو۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader