Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 316

By Maulana Wahiduddin Khan

پاکستان کے مشہور اردو اخبار نوائے وقت (۹ جون ۱۹۹۰) کے صفحہ اول کی ایک خبر یہ ہے : وزیر مملکت خزانہ مسٹر احسان الحق پر اپچہ نے ۸ جون کو اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ پاکستان کے موجودہ دفاعی اخراجات ہمارے مجموعی غیر ترقیاتی اخراجات کا ۸۰ فیصد ہو چکے ہیں۔ مزید یہ کہ پاکستان نے جو بین الاقوامی قرض لے رکھے ہیں، ان قرضوں پر سود کی ادائیگی کی رقم اس سے بھی زیادہ ہے۔ اس طرح اب دفاع سے زیادہ رقم سود کی ادائیگی پر خرچ ہو رہی ہے۔ یہ ہے پچاس برس بعد اس پاکستان کا انجام جس کو مفکرِ اسلام اقبال، قائدِ اعظم جناح، اور شیخ التفسیر شبیر احمد عثمانی اور اس طرح کے دوسرے لوگوں نے بنوایا تھا۔ ۴۷ سے پہلے جب کہ میں عقلی پختگی کے دور تک نہیں پہنچا تھا، اس وقت بھی وجدانی طور پر میں پاکستان کی تحریک کو ایک لغو تحریک سمجھتا تھا۔ اور اب تو میرا خیال ہے کہ ساری معلوم تاریخ میں شاید سب سے بڑی حماقت وہی کی گئی ہے جس کا نام پاکستان ہے۔ ۱۸ جون ۱۹۹۰ صفیہ ظفر (لکھنؤ) کا ایک قسط وار مضمون قومی آواز میں چھپا ہے ۔ وہ یورپ کا سفر کرتی ہوئی امریکہ پہنچیں۔ ڈیئر آنٹ کی یادداشت کے تحت وہ لکھتی ہیں : " ایئر پورٹ پر ڈاکٹر عاصم بھائی موجود تھے ۔ عاصم بھائی کے جماعت اسلامی کے زور دار رکن ہونے کی وجہ سے ان کی چھت کے نیچے بین اقوامی اجتماع ہوتا رہتا ہے۔ ان کے دوستوں میں کوئی ترکی کا ہے، کوئی عرب، کوئی مصر اور کوئی امریکن، کوئی حبشی ۔ اسلامیات پر بحثیں ہوتی رہتی ہیں ۔ اسلامی انقلاب کے آنے کے امکانات پر مباحثہ ہوتا ہے۔ اور خوب کھانے پینے کا دور بھی چلتا رہتا ہے ۔ امریکہ میں جتنے آرام کے ساتھ کام کرتے میں نے عاصم بھائی کو دیکھا اور کسی کو نہیں دیکھا۔" قومی آواز ، ۷ جون ۱۹۹۰ - ڈاکٹر عاصم کا نہود سے تعلق رکھتے ہیں ۔ ۱۹۴۳ کے نصف اول میں ایک بارے میں کانپور گیا تھا اور وہاں مرزا امتیاز بیگ کے یہاں ٹھہرا تھا۔ اس وقت کانپور میں ڈاکٹر عاصم صاحب سے ملاقات ہوئی تھی ۔ وہ مولانا مودودی کے پرجوش مداحوں میں سے تھے ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page