Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 317

By Maulana Wahiduddin Khan

اوپر کے اقتباس میں جماعت اسلامی کے افراد کا جو ذکر ہے، وہ ان کا صحیح ترین موجودہ نقشہ ہے۔ اس وقت جماعت اسلامی کے افراد کی عین وہی حالت ہے جو موجودہ کیونسٹوں کی ہے۔ جماعت اسلامی کے افراد عام دنیا داروں کی طرح خوب کھانے پینے کی زندگی گزارتے ہیں۔ البتہ فارغ اوقات میں وہ اسلامی سیاست پر گرم گرم گفتگو کرتے رہتے ہیں۔ اسلام ان کے لیے ٹھیل ٹھاٹ کا ایک موضوع ہے۔ اور ٹھیل ٹھاٹ کے لئے ظاہر ہے کہ خشوع اور تضرع اور انابت و اخبات کا موضوع اتنا دلچسپ نہیں ہو سکتا جتنا اسلامی سیاست کا موضوع۔ ۱۹ جون ۱۹۹۰ء جون ۱۹۷۰ء میں میں دہلی آیا۔ اسی ابتدائی زمانہ کی بات ہے۔ جماعت اسلامی ہند کی طرف سے جماعت کا ایک آل انڈیا اجتماع منعقد کرنے کا اعلان کیا گیا۔ اس اعلان کے بعد میں جماعت اسلامی کے مرکزی دفتر (دہلی) میں گیا، وہاں میری ملاقات مرکزی قیم (جنرل سکریٹری) سے ہوئی۔ گفتگو کے دوران میں نے پوچھا کہ آپ نے کل ہند اجتماع منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس میں ملک بھر سے جماعت اسلامی کے افراد جمع ہوں گے۔ اس موقع پر آپ انہیں کیا خاص پیغام دینا چاہتے ہیں۔ انھوں نے میرا سوال سن کر معصومانہ انداز میں جواب دیا: ابھی تو اس پر زیادہ غور نہیں کیا۔ میں نے کہا کہ یہی بات تو سب سے پہلے سوچنے کی تھی، اور آپ حضرات نے اب تک اس پر غور ہی نہیں کیا۔ مجھے قیم صاحب کے اس جواب پر بہت تعجب ہوا۔ بعد کو میں نے سوچا تو سمجھ میں آیا کہ جماعت اسلامی کی موجودہ حالت کے اعتبار سے یہ جواب بالکل درست ہے۔ کیوں کہ جماعت اب کوئی تحریک نہیں ہے بلکہ صرف ایک ڈھانچہ ہے۔ اور جب کوئی جماعت تحریک کے مرحلے سے گزر کر ڈھانچہ کے مرحلہ میں پہنچ جائے تو اس کا حال یہی ہوتا ہے۔ ۲۰ جون ۱۹۹۰ء مسٹر ایچ ایل کھیرا سری نگر (کشمیر) میں ایچ ایم ٹی کے جنرل منیجر تھے۔ کشمیر کے مسلح جنگجوں نے ان کو اغوا کر کے یرغمال بنا لیا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ ہمارے گرفتار شدہ ساتھیوں کو رہیا کیا جائے۔ جب ان کا مطالبہ پورا نہیں کیا گیا تو وہ مسٹر کھیرا کو گاڑی پر بٹھا کر سڑک پر لائے۔ انھیں گاڑی سے اتار کر کہا کہ جائیے۔ جب وہ سڑک پر جانے لگے تو ان پر گولیوں کی بوچھاڑ کر کے وہیں سڑک پر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page