آغازِ کلام
Urdu book, p. 318
By Maulana Wahiduddin Khan
انہیں ڈھیر کر دیا۔ یہ واقعہ ۱۰ اپریل ۱۹۹۰ کو دوپہر کے وقت ہوا۔ جب ریڈیو سے خبر پھیلی تو ہندوؤں میں اشتعال پیدا ہوا۔ اس سلسلہ میں مولانا اجتباہ ندوی نے ۱۸ جون کی ملاقات میں بتایا کہ لکھنو یونیورسٹی کے ہندولڑ کے ند وہ سے ملے ہوئے ہوسٹل کی چھت پر چڑھ گئے اور ند وہ کے اوپر پتھر برسانے لگے ۔ وہ اشتعال انگیز نعرے لگا رہے تھے اور مسلمانوں کو گالیاں دے رہے تھے۔ میں نے پوچھا کہ پھر ند وہ والوں نے کیا کیا۔ انھوں نے کہا کہ مولانا واضح صاحب (استاذ ند وہ العلما) آئے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ ہم لوگوں نے بالکل خاموشی اختیار کر لی ۔ ند وہ کی طرف سے کسی بھی قسم کا کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا گیا۔ نہ ان کے نعروں کا جواب دیا گیا اور نہ ان پر پتھر پھینکا گیا۔ کچھ دیر تک وہ اپنی کارروائی کرتے رہے، اس کے بعد خود ہی پیچھے چلے گئے۔ ند وہ والے کہتے ہیں کہ الرسالہ بزدلی کا پیغام دیتا ہے۔ وہ اپنی تقریروں میں پرجوش طور پر جہاد اور مقابلہ کی باتیں کرتے ہیں۔ مگر جب خود اپنا وجود فسادیوں کی زد میں آیا تو انھوں نے وہی کیا جو الرسالہ میں بتایا جاتا ہے۔ یعنی صبر و اعراض۔ ۲۱ جون ۱۹۹۰ء نیاز فتحپوری (۱۹۶۶-۱۸۸۲) کے یہاں پہلی اور دوسری بیوی سے لڑکا پیدا نہیں ہوا۔ بعد کو انھوں نے تیسری شادی کی اس سے دو لڑکے پیدا ہوئے۔ ابتدائی دور میں انھوں نے ایک شخص کو اپنا بیٹا بنالیا تھا۔ ان کا نام غلام محمد خاں (وفات نومبر ۱۹۸۱) تھا۔ نیاز فتحپوری نے اس نام کو نہایت غیر شاعرانہ قرار دیا۔ اور ان کا نام بدل کر مجد دینیاری کر دیا (قومی آواز، ۱۰جون ۱۹۹۰) نیاز فتحپوری کے بارہ میں میں نے یہ بات پڑھی تو مجھے یاد آیا کہ نوجوانی کی عمر میں میں بھی اکثر یہ لفظ بولاکرتاتھا۔ جو چیز میرے ذوق کے مطابق نہ ہوتی، اس کو میں کہہ دیتا کہ یہ غیر شاعرانہ ہے، یہ غیر شاعرانہ حرکت ہے۔ نیاز فتحپوری اسی ادبی سطح پر رہے۔ اس بارے میں ان کا معاملہ من شب علیٰ شئی شاب علیہ کا ہوا۔ مگر میں ادبی سطح پر شہر نہ سکا ۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے موجودہ حالت تک پہنچایا۔ اس پر سوچتے ہوئے مجھے یاد آیا کہ پہلے جن مواقع پر میں ”غیر شاعرانہ“ کہا کرتا تھا، اب ان

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader