Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 319

By Maulana Wahiduddin Khan

مواقع پر میری زبان سے "غیر سائنٹفک" کا لفظ نکلتا ہے۔ اس سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ جو شاعرانہ کا لفظ تھا، بولتا تھا، وہ حقیقتاً ادبی معنوں میں نہ تھا۔ اصل یہ ہے کہ میرے اندر سائنٹفک مزاج بچپن سے ہے۔ ابتدائی زمانہ میں میرا ماحول شعر و شاعری کا ماحول تھا۔ جب میں کسی بات کے متعلق کہتا تھا کہ یہ غیر شاعرانہ ہے تو یہ در اصل اپنے دل کی بات کو ماحول کی زبان میں ادا کرنا ہوتا تھا۔ بعد کو جب ماحول کا اثر ختم ہوا اور علم میں اضافہ ہوا تو "غیر شاعرانہ" لفظ کو ناموزوں سمجھ کر میں نے چھوڑ دیا۔ اور "غیر سائنٹفک" لفظ کو اپنے مدعا کے قریب تر پا کر اختیار کر لیا۔ ۲۲ جون ۱۹۹۰ نیوٹن اصلا ایک ریاضی داں اور سائنٹسٹ تھا۔ تاہم اس کو مذہب کے مطالعہ سے بھی دلچسپی تھی۔ اس نے بائبل کا گہرائی کے ساتھ مطالعہ کیا۔ اس کے سائنسی ذہن نے محسوس کیا کہ بائبل کی بہت سی باتیں درست نہیں ہیں۔ چنانچہ بائبل پر اس نے دو تنقیدی کتابیں لکھیں ۔ نیوٹن انگلینڈ کا رہنے والا تھا۔ اس زمانہ میں پورے یورپ میں مسیحی چرچ کا اتنا غلبہ تھا کہ نیوٹن اپنی ان تحریروں کو شائع کرنے کی جرات نہ کر سکا۔ اس کی یہ تحریریں اس کے گھر میں ایک صندوق میں پڑی رہیں۔ نیوٹن کے مرنے کے دو سو برس بعد پہلی بار ان کو شائع کیا گیا۔ نیوٹن کا انتقال لندن میں ۱۷۲۷ء میں ہوا۔ اور اس کی مسیحیت مخالف تحریروں کو مرتب کرکے شائع کرنے کا کام پہلی بار ۱۹۳۴ میں ہوسکا۔ یہ زمانی فرق کی بات ہے۔ پچھلے زمانہ میں مذہب کے خلاف لکھنا یا بولنا بالکل ممنوع تھا۔ اس کو کفر سمجھا جاتا تھا۔ موجودہ زمانہ میں آزادئ فکر کو انسان کا ایک مسلمہ حق سمجھا جاتا ہے۔ اسی آزادی کا یہ نتیجہ ہے کہ آج کوئی شخص شام کو ایک مخالفانہ تحریر لکھے تو صبح کو وہ چھپ کر لوگوں کے سامنے آجائے گی۔ جب کہ پہلے نیوٹن جیسا آدمی بھی اس قسم کی تحریروں کو چھاپنے کی جرات نہیں کرتا تھا۔ ۲۳ جون ۱۹۹۰ شاہ ولی اللہ دہلوی (۶۲۱ ، ۱ - ۱۰۷)، نے اپنی مشہور کتاب حجۃ اللہ البالغہ کے دیباچہ میں لکھا ہے کہ "مصطفوی شریعت کے لئے وقت آگیا ہے کہ برہان اور دلیل کے پیرایوں میں ملبوس کرکے اسے میدان میں لایا جائے۔ شاہ ولی اللہ کی کتاب حجۃ اللہ البالغہ اسی موضوع پر لکھی گئی ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page