آغازِ کلام
Urdu book, p. 32
By Maulana Wahiduddin Khan
نہیں بولنا ہے۔ کب اقدام کرنا ہے اور کب اقدام نہیں کرنا ہے۔ سید عبد الحفیظ صاحب (۳۳ سال) محبوب نگر ( آندھرا پردیش) کے رہنے والے ہیں۔ وہ سول انجینئر ہیں اور ۶ سال سے سعودی عرب میں ملازم ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ میرے ادارہ میں میرے جیسی ڈگری کا ایک امریکن چار ھن تنخواہ پاتا ہے۔ میری تنخواہ چار ہزار ریال ماہانہ ہے تو اس کی تنخواہ ۱۶ ہزار ریال ماہانہ۔ اور ہمارے ادارہ میں جو امریکن نیجر ہے، اس کی تنخواہ ۲۴ ہزار ریال ماہانہ۔ مزید یہ کہ امریکنوں کو مختلف قسم کی مزید سہولتیں ملتی ہیں جو ہندوستانیوں اور پاکستانیوں کو نہیں ملتیں۔ میں نے کہا کہ مجھے سعودی عرب کے اس امتیاز کے بارہ میں کچھ نہیں کہنا ہے، کیوں کہ وہ ان کے اپنے انتظام کی بات ہے۔ البتہ میں کہوں گا کہ ہندوستان کے لوگ عرب ملکوں میں جاکر وہاں اس قسم کے امتیاز کو برداشت کرکے رہتے ہیں۔ اور ہندوستان میں وہ اس سے کمتر درجہ کی چیزوں کو برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں۔ ہندوستانی سلمان جس طرح عرب ملکوں میں جاکر وہاں کے نظام سے موافقت کر رہے ہیں، اسی طرح اگر وہ ہندوستان کے نظام سے موافقت کرکے رہیں تو یہاں بھی ان کے لئے ترقی کے وہی مواقع ہیں جو عرب ملکوں میں ان کے لئے پائے جاتے ہیں۔ فروری ۱۹۸۹ء سلطان احمد صاحب (پیدائش ۱۹۵۱ء) مظفر پور بہار کے رہنے والے ہیں ۔ وہ وہاں تجارت کرتے ہیں۔ وہ ملاقات کے لئے آئے۔ انھوں نے بتایا کہ چھ ماہ پہلے مظفر پور کے اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن (ایس آئی او) کے نوجوانوں کو جوش آیا۔ انھوں نے شہر کی بعض دیواروں پر یہ نعرہ لکھ دیا: "مورتی پوجا پاپ ہے"۔ ہندوؤں پر بھی اس کا رد عمل ہوا۔ انھوں نے سارے شہر کی دیواروں پر کسی گنگا ازم بادہ تہدید میں سے الفاظ لکھ دیئے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader