آغازِ کلام
Urdu book, p. 320
By Maulana Wahiduddin Khan
قدیم زمانہ روایتی زمانہ تھا۔ قدیم زمانہ میں روایتی استدلال کافی ہوتا تھا، مگر آج کا انسان روایتی استدلال کو کوئی اہمیت نہیں دیتا۔ وہ عقلی اور سائنسی اسلوب میں بات کو سمجھنا چاہتا ہے۔ مثال کے طور پر ہندوستان کے مسلم علما سب کے سب یکساں سول کوڈ کے مخالف ہیں۔ مگر اس کی مخالفت کے لئے ان کے پاس کہنے کی جو بات ہے وہ صرف یہ کہ یہ ہماری شریعت میں مداخلت ہے اور ہم شرعی مداخلت کو برداشت نہیں کر سکتے۔ اس کے جواب میں جدید طبقہ کہتا ہے کہ یہ کوئی دلیل نہیں۔ اگر آپ یکساں سول کوڈ کے خلاف ہیں تو آپ کو عقلی اور سائنسی دلیل سے اسے رد کرنا ہوگا۔ ورنہ آپ کی بات نہیں مانی جائے گی۔ ایسی حالت میں ضروری ہے کہ ہم اپنے نقطہ نظر کو مخاطب کے مسلمہ دلائل سے ثابت کریں۔ دیکھیے : (رسالہ ستمبر (۱۹۹۵) ۲۲ جون ۱۹۹۰ء پنجاب اور کشمیر دونوں ریاستوں میں آجکل آزادی کی تحریک چل رہی ہے۔ دونوں جگہ سے روزانہ مار دھاڑ اور خون خرابہ کی خبریں آرہی ہیں۔ ایک صاحب نے کہا کہ پنجاب اور کشمیر کے مسئلہ کے بارہ میں آپ کی رائے کیا ہے۔ میں نے کہا کہ میری ایک ہی رائے دونوں جگہ کے بارہ میں ہے۔ تحریک چلانے والوں کو چاہئے کہ وہ یہ نہ دیکھیں کہ ان کے اپنے خیالات کے مطابق صحیح کیا ہے۔ بلکہ وہ یہ دیکھیں کہ موجودہ حالات میں ان کے لئے کیا ممکن کیا ہے۔ میرے نزدیک یہ سیاست نہیں کہ ناممکن پر سر ٹکرایا جائے۔ سیاست یہ ہے کہ ممکن کو قبول کر کے پرامن طور پر اپنی زندگی کی تعمیر کی جائے، جیسا کہ موجودہ زمانہ میں جاپان نے کیا ہے۔ ۲۵ جون ۱۹۹۰ء ایک سفر کے دوران ۳۰ مارچ ۱۹۹۰ کو میں طرابلس میں تھا۔ فندق المحاری میں اچانک ایک صاحب سامنے آگئے۔ انھوں نے السلام علیکم کہا۔ میں نے جواب دیا مگر میں ان کو پہچان نہ سکا۔ انھوں نے کہا: "آدم مکدا" تب میری سمجھ میں آیا کہ یہ وہی صاحب ہیں جو ندوہ (لکھنؤ) کے زمانہ قیام (۷۶-۱۹۷۴) میں وہاں تھے اور ان سے کبھی کبھی ملاقات ہوتی رہتی تھی۔ انھوں نے اپنا کارڈ دیا جس میں حسب ذیل پتہ لکھا ہوا تھا :

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader