Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 321

By Maulana Wahiduddin Khan

آدم مکد الیدرقم کے افریقی تھے۔ ندرہ میں قیام کرتے ہوئے انہوں نے لکھنو یونیورسٹی کے عربی کورس میں داخلہ لے لیا تا کہ وہاں سے عالم‘ کا سرٹیفکیٹ لے سکیں ۔ ندرہ کے ذمہ دار اس قسم کے داخلہ کو سخت ناپسند کرتے تھے۔ تاہم آدم مکد جیسے افریقی طالب علم کے خلاف وہ کوئی کارروائی نہیں کر سکتے تھے۔ چنانچہ یہ کہہ دیا گیا کہ آدم مکد اکو ظفر الاسلام نے بہکا کر یونیورسٹی میں داخل کیا ہے ۔ میں نے سنا تو میں نے کہا: اگر یہ صحیح ہو کہ ظفر الاسلام نے واقعہ ایسا کیا ہے تو یہ میرے لئے ایک دریافت ہوگی کہ میں ایسے لڑکے کا باپ ہوں جو آدم مکد کو بہکا سکتا ہے۔ خود آدم کدا کارد عمل یہ تھا کہ انہوں نے جب یہ بات سنی تو کہا کہ Ridiculous (مضحکہ خیز) ۲۶ جون ۱۹۹۰ پاکستان کے اخبار نوائے وقت (۱۶ جون ۱۹۹۰) کے ایک ایڈیٹوریل نوٹ کا عنوان ہے: ”تربیت یافتہ تخریب کار‘ اس کے تحت درج ہے کہ وزیراعظم بے نظیر بھٹو نے کہا ہے کہ انٹیلی جنس کی اطلاعات کے مطابق، بھارت نے ۱۵۰ دہشت گرد پاکستان پہنچائے ہیں جنہیں افغانستان میں تربیت دی گئی ہے اور ان کا کام پاکستان میں تباہی پھیلانا ہے۔ اگر یہ خبر صحیح ہو تو یہ عین وہی ہے جو ہونا چاہئے۔ پاکستان کے حکمرانوں نے اپنے زیر قبضہ کشمیر میں تخریب کاری کی تربیت کے کیمپ قائم کئے اور ہزاروں کشمیریوں کو تشدد کی تربیت دیکر ہندوستانی کشمیر میں داخل کر دیا۔ یہ لوگ کشمیر میں ہندوستانی حکومت کے خلاف دہشت گردی کی مہم چلائے ہوئے ہیں۔ اس کے بعد یہ ناممکن ہے کہ ہندوستان خاموش رہے۔ پاکستان کو کشمیر میں تخریب کاری کا منصوبہ بناتے ہوئے لازمی طور پر یہ سوچنا چاہئے تھا کہ اسی قسم کی جوابی تخریب ہندوستان کی طرف سے پاکستان (سندھ) میں کی جائے گی۔ اگر پاکستان کے حکمراں اس سے بے خبر تھے تو ان کا مقام ایوان حکومت نہیں بلکہ عجائب خانہ ہے۔ کیسے عجیب ہوں گے وہ لوگ جو اس سادہ حقیقت کو نہ جانیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page