آغازِ کلام
Urdu book, p. 322
By Maulana Wahiduddin Khan
مسٹر محمد علی جناح نے تقسیم سے پہلے مسلمانوں کو ہندوئوں کے خلاف ابھار اتو بیشمار مسلمان ان کے گرد جمع ہوگئے ۔ ان کو قائد اعظم کا خطاب دیا گیا ۔ مگر انھیں " قائد اعظم" نے تقسیم کے بعد بار بار مسلمانوں سے کہا کہ اب وہ سب کچھ کو بھلا کر پاکستان کی تعمیر میں لگ جائیں۔ مگر شاید پاکستان میں کوئی ایک بھی مسلمان نہ تھا جس نے ان کی اس آواز پر توجہ دی ہو۔ مثال کے طور پر نوائے وقت (۱۶جون ۱۹۹۰) نے مسٹر محمد علی جناح کا یہ بیان ان الفاظ میں نقل کیا ہے: " میں پاکستان کے ہر مسلمان مرد اور عورت سے کہتا ہوں کہ وہ اپنے موجودہ غم واندوہ کے سیلاب میں نہ بہہ جائیں۔ انھوں نے اپنی قومی سلطنت قائم کرنے کے لئے بہت دکھ اٹھائے ہیں اور قربانیاں دی ہیں۔ اب یہ انھیں کا کام ہے کہ وہ پاکستان کی تعمیر کریں۔" (بیان، ۲۲ اگست ۱۹۴۷) مسٹر جناح کی مقبولیت کاراز صرف یہ تھا کہ انھوں نے اینٹہی ہندو لہجہ میں بات کیا۔ جو مسلمان بھی اینٹھی ہندو لہجہ میں بات کرتا ہے، مسلمان اس کے پیچھے دوڑ پڑتے ہیں۔ ایسے بلانے والے بھی مجرم ہیں اور ایسے دوڑنے والے بھی مجرم ۔ صحیح پکار وہ ہے جس میں دوسروں کی خیر خواہی اور اپنا احتساب ہو۔ مگرایسا پکارنے والا آج کوئی بھی نہیں۔ ۲۸ جون ۱۹۹۰ ایک صاحب نے کہا کہ آپ مسلمان لیڈروں پر تنقید کرتے رہتے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا کیا جائے ۔ مثلاً بابری مسجد کا حل کیا ہو سکتا ہے۔ میں نے کہا کہ ہندو شاعرہ میرا بائی کے ایک بھجن کا شعر ہے جو مفہوم کے اعتبار سے کچھ اس طرح ہے: پتھر کی تو نائو بناوے اور کہے کرشن تو بیڑا پار لگا مسلمانوں نے اپنے جھوٹے لیڈروں کی پیروی میں بابری مسجد کے مسئلہ کو آخری حد تک بگاڑ ڈالا ہے۔ اب وہ کہتے ہیں کہ اس کا حل بتا ئو۔ یہ ایسا ہی ہے کہ کسی نے اپنی نائو پتھر کی بنا رکھی ہو تو کوئی طراح اس کو کیسے پار لگا سکتا ہے۔ یہی حال موجودہ زمانہ میں تمام مسلم مسائل کا ہے۔ مسلمان مسئلہ کے حل کے نام پر صرف مسئلہ کو پیچیدہ بنا رہے ہیں، ایسی حالت میں کوئی کرنے والا کیا کر سکتا ہے۔ اس دنیا میں مسائل دانش مندی سے طے ہوتے ہیں نہ کہ جذباتی ہنگاموں سے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader