Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 323

By Maulana Wahiduddin Khan

بھاگلپور کے ایک ہندو تاجر سے ملاقات ہوئی۔ عبدالغفور صاحب (سابق چیف منسٹر بہار) نے ان کو مجھ سے ملنے کے لئے بھیجا تھا۔ گفتگو کے دوران تجارت اور تاجر کا ذکر آیا۔ انھوں نے کہا، بزنس میں کا بھگوان کون، اس کا گراہک۔ یہ ہند و ذہن کی صحیح تعبیر ہے۔ ہندو کا اصل مذہب پیسہ ہے۔ پیسہ گاہک سے ملتا ہے، اس لئے وہ گاہک کا پجاری ہے۔ ہندوؤں کا یہی عقیدہ ہے جس نے ان کے اندر تجارتی اخلاقیات پیدا کیا ہے۔ یعنی شیریں کلامی اور صبر و اعراض۔ یہی اخلاق مسلمانوں سے بھی مطلوب ہے۔ فرق یہ ہے کہ ہندوؤں میں یہ کردار ان کے مشرکانہ عقیدہ کے ذریعہ آیا ہے، اور مسلمانوں کے اندر یہ کردار توحید اور آخرت کے عقیدہ کے تحت پیدا ہوگا۔ اس اخلاق کے بغیر موجودہ دنیا میں کامیابی ممکن نہیں۔ ۳۰ جون ۱۹۹۰ مولانا محمد اقبال (مالیر کوٹلہ) نے بتایا کہ ۱۹۴۷ کے بعد اگرچہ پنجاب کا علاقہ مسلمانوں سے خالی ہو گیا تھا، مگر اب دوبارہ کثرت سے مسلمان آکر وہاں آباد ہو رہے ہیں۔ مثلاً لدھیانہ میں ایک لاکھ مسلمان دوبارہ آ گئے ہیں۔ چنڈی گڑھ میں ایک لاکھ سے زیادہ مسلمان دوبارہ آکر رہ رہے ہیں۔ اسی طرح امرتسر اور پنجاب کے دوسرے شہروں میں مسلمان دوبارہ آکر آباد ہو رہے ہیں۔ سردار لوگ ان کی دوبارہ آباد کاری اور مسجدوں کی بازیابی میں پورا تعاون دے رہے ہیں۔ سابق وزیر داخلہ سردار پٹیل (۱۹۵۰-۱۸۷۵) کا نظریہ یہ تھا کہ پنجاب کو مسلمانوں سے خالی کرانا ضروری ہے، ورنہ ہماری پاکستان سے ملنے والی سرحد کا دفاعی نظام مضبوط نہیں ہو سکتا۔ سردار پٹیل نے سکھوں کو اپنا سمجھا اور مسلمانوں کو غیر۔ مگر واقعات بتاتے ہیں کہ انسان کتنا کم جانتا ہے۔ آج پنجاب کے سردار نئی دہلی کی حکومت کے سب سے بڑے دشمن ہو رہے ہیں۔ اور جن مسلمانوں کو پنجاب سے نکالا گیا تھا، وہ دوبارہ اسی پنجاب میں عزت کے ساتھ بسائے جا رہے ہیں۔ یکم جولائی ۱۹۹۰ عزیز الرحمٰن صاحب ملاقات کے لئے آئے۔ وہ حافظ محمد ابراہیم صاحب (۱۹۶۸-۱۸۸۹)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page