آغازِ کلام
Urdu book, p. 324
By Maulana Wahiduddin Khan
کے صاحبزادے ہیں۔ یوپی میں تین بار وزیر رہ چکے ہیں۔ ان کا وطن نگینہ ہے۔ انھوں نے اپنے والد کے حوالے سے بتایا کہ تقسیم کے بعد جب پہلی بار جواہر لال نہرو سابق وزیر اعظم ہند، کراچی (سابق دار السلطنت پاکستان) گئے تو حافظ محمد ابراہیم صاحب بھی ان کے ساتھ تھے ۔ وہاں ان کی ملاقات چودھری خلیق الزماں سے ہوئی جو ۱۹۳۷ء سے پہلے مسلم لیگ کے لیڈر تھے اور تقسیم کے بعد لکھنؤ چھوڑ کر پاکستان چلے گئے تھے۔ گفتگو کے دوران چودھری خلیق الزماں نے نہرو سے کہا: پاکستان تو حافظ ابراہیم نے بنایا ہے۔ میں نے کہا کہ پاکستان کو مسلمانوں کی حماقت نے بنوایا ہے۔ ۱۹۳۷ء میں یوپی میں کانگریسی وزارت بنی تو کانگریس نے کانگریسی مسلمان حافظ ابراہیم ) کو کیبینٹ میں لے لیا۔ جبکہ مسلم لیگ یہ چاہتی تھی کہ مسلم لیگی مسلمان نواب زادہ لیاقت علی کو کیبینٹ میں لیا جائے۔ اس پر مسلم لیگ کے لیڈر اتنا برہم ہوئے کہ ملک کے بٹوارہ کا جھنڈا لے کر کھڑے ہو گئے۔ یہ سراسر ایک احمقانہ فعل تھا۔ قوموں کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ اس طرح کے شخصی واقعات پر نہیں ہوتا، بلکہ وسیع تر حقائق کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ جو لوگ اس بنیادی حقیقت کو نہیں جانتے، وہ وہ آخری است کے میدان میں کیوں کودتے ہیں۔ ۲ جولائی ۱۹۹۰ء ایک صاحب نے حالات کی ناموافقت کی شکایت کی۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے خلاف یہ کیا جا رہا ہے، ہمارے خلاف وہ کیا جا رہا ہے۔ ایسے سخت حالات میں بھلا کس طرح کوئی کام کیا جا سکتا ہے۔ میں نے کہا کہ میں آپ سے صرف ایک بات کہتا ہوں۔ اس کو اپنی ڈائری میں لکھ لیجئے! آج سے پچاس برس بعد بھی اگر آپ نے اپنی ڈائری کا یہ صفحہ کھولا تو وہ آپ کو پتھر کی لکیر کی طرح صداقت نظر آئے گی۔ وہ بات یہ ہے: اس دنیا میں وہی لوگ کوئی بڑا کام کرتے ہیں جو کام نہ کرنے والے حالات میں کام کرنے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔ جو لوگ کام کرنے لئے موافق حالات کا انتظار کریں، وہ کبھی کوئی بڑا کام نہیں کر سکتے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader