Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 325

By Maulana Wahiduddin Khan

طارق زکی صدیقی سے پوچھا کہ آپ ڈاکٹر مقبول احمد (ایف آرسی ایس) کو جانتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ خوب اچھی طرح ۔ میں نے کہا کہ کلکتہ کے مسلمان ان کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ بہت بری رائے۔ تفصیل پوچھنے پر انھوں نے بتایا کہ وہ ایک اچھے سرجن ہیں۔ مگر ان کا طریقہ یہ ہے کہ وہ آپریشن کو بیچ میں روک کر کہتے ہیں کہ پہلے پیسہ لاؤ۔ اب آدمی مجبور ہو کر ان کے مطالبہ کو پورا کرتا ہے۔ مزید پوچھنے پر انھوں نے بتایا کہ خود میرے چچا کے ساتھ ایسا ہی ہوا۔ میرے چچا کا اپنڈکس کا کیس تھا۔ ان کو وہ اپنے آپریشن تھیٹر میں لے گئے اور نشتر سے پیٹ کو چیر دیا اور اس کے بعد کہا کہ پہلے دس ہزار روپیہ لاؤ پھر آپریشن مکمل کریں گے ۔ اس وقت بارش ہو رہی تھی ۔ میرے والد بھاگ کر گئے اور بڑی مشکلوں سے پیسہ جمع کر کے لائے ۔ تب انھوں نے آپریشن کیا۔ مجھے یہ بات کامن سنس کے خلاف معلوم ہوئی۔ اس لئے کہ جب پیٹ پر نشتر چلا دیا جائے تو اس کے بعد تحفظاتی تدبیروں کے باوجود آدمی کا خون نکلتا رہتا ہے ۔ اس کے بعد ضروری ہوتا ہے کہ بلا تاخیر جلد سے جلد آپریشن کو مکمل کیا جائے ورنہ آدمی خون کے اخراج کی وجہ سے مر جائے گا اور خود ڈاکٹر کے خلاف قتل کا کیس بن جائے گا۔ میں نے بقیہ دو صاحبان سے مزید پوچھ گچھ کی ۔ آخر کار معلوم ہوا کہ اصل بات یہ ہے کہ ڈاکٹر مقبول احمد آپریشن سے پہلے پیشگی طور پر رقم جمع کراتے ہیں ایسا غالباً بعض تلخ تجربات کی بنا پر ہوا ہے، پیشگی طور پر آپریشن کی فیس وصول کرنے کے بعد آپریشن کرتے ہیں ورنہ معذوری ظاہر کر دیتے ہیں۔ اسی بات کو مذکورہ غلط صورت میں مشہور کر دیا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ خبر کی تحقیق نہایت ضروری ہے۔ تحقیق کے بغیر آدمی کو کبھی صحیح صور تحال معلوم نہیں ہو سکتی۔ ۴ جولائی ۱۹۹۰ء مسٹروی دی گری ( ۱۹۸۰- ۱۸۹۲) مدراس کے رہنے والے تھے۔ وہ ۱۹۶۹ سے ۱۹۷۴ء تک انڈیا کے پریزیڈنٹ رہے۔ اطہر صدیقی صاحب نے ان کا ایک واقعہ بتایا۔ راشٹرپتی بھون (نئی دہلی) کے اندر ایک مسجد ہے جو برٹش دور سے چلی آرہی ہے۔ جمعہ کے دن اس میں باہر کے لوگ بھی نماز پڑھتے ہیں ۔ ایک بار جب کہ مسٹر وی دی گری دہرہ دون گئے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page