Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 326

By Maulana Wahiduddin Khan

ہوئے تھے، ان کے سیکورٹی اسٹاف کے ایک ہندو افسر نے مسجد کو بند کروا دیا۔ اس سے وہاں کے مسلمانوں میں بے چینی پیدا ہو گئی۔ اگلے دن مسٹر گری واپس آئے تو راشٹرپتی بھون کے ایک مسلمان ملازم (عبد الحمید صاحب) ان سے ملے اور کہا کہ آپ کی غیر موجودگی میں راشٹرپتی بھون کی مسجد کو بند کر دیا گیا ہے۔ اس کی وجہ سے مسلمانوں کو بہت دکھ ہے۔ یہ رات کا وقت تھا اور مسٹر گری ابھی ابھی سفر سے واپس آئے تھے۔ انہوں نے اس کے بعد فوراً سکیورٹی اسٹاف کے مذکورہ ہندو افسر کو بلایا اور اس سے پوچھا کہ تم نے مسجد کیوں بند کرادی۔ اس نے کہا کہ حفاظتی نقطہ نظر سے ایسا کرنا ضروری تھا۔ مسٹر گری اس جواب پر غصہ ہو گئے۔ انہوں نے کہا: مجھے اس سے بالکل اتفاق نہیں۔ تم ابھی جاکر مسجد کو کھول دو۔ اور کل سے تم راشٹرپتی بھون میں نہیں ہوگے۔ اس کے بعد انہوں نے تعزیری تبادلہ (Punitive transfer) کے طور پر اگلے ہی دن اس کو روانہ بھیج دیا۔ یہ واقعہ علامتی طور پر بتارہا ہے کہ ہندوؤں میں اگر کچھ افراد تعصب اور تنگ نظری کا شکار ہیں تو اسی کے ساتھ انھیں ہندوؤں میں ایسے افراد بھی ہیں جو بے تعصب اور انصاف پسند ہیں۔ مزید یہ کہ ثانی الذکر افراد اس پوزیشن میں ہیں کہ وہ اول الذکر افراد کی کارروائیوں کو کالعدم کرسکیں، جیسا کہ مذکورہ واقعہ میں ہوا۔ ۵ جولائی ۱۹۹۰ استانبول (ترکی) سے ہمارے یہاں ایک انگریزی پر چہ آتا ہے۔ اس کا نام "نیوز لیٹر" ہے۔ اس کے شمارہ دسمبر ۱۹۸۹ میں ایک صفحہ پر جلی حرفوں میں یہ شعر لکھا ہوا ہے: کل علم ليس في القرطاس ضاع کل سر جاوز الا ثنين شاع ہر علم جو کا غذ میں نہ ہو وہ ضائع ہو گیا۔ ہر راز جو دو تک پہنچ جائے وہ عام ہو گیا۔ ۴ جولائی کو عید الاضحیٰ کی نماز میں نے تبلیغی جماعت کی مسجد میں پڑھی۔ وہاں انسانوں کا ہجوم تھا۔ وہاں کے ماحول کو دیکھ کر ایک بات ذہن میں آئی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page