آغازِ کلام
Urdu book, p. 327
By Maulana Wahiduddin Khan
دین کے دو پہلو ہیں۔ ایک معنی کے اعتبار سے، اور دوسرا شکل کے اعتبار سے۔ دین کے ان دونوں پہلوؤں کا تسلسل امت میں جاری رہے گا، یہاں تک کہ قیامت آ جائے۔ میرا احساس یہ ہے کہ تبلیغی تحریک، موجودہ زمانہ میں، دین کے شکلی پہلو کا تسلسل ہے، اور الرسالہ کا مشن دین کے معنوی پہلو کا تسلسل۔ تبلیغ کے لوگ اس تقسیم کو ہرگز نہیں مانیں گے۔ مگر میرے نزدیک حقیقت واقعہ یہی ہے۔ ۷ جولائی ۱۹۹۰ء مولانامفتی کفایت اللہ دہلوی (۱۹۵۲-۱۸۷۵) کے زمانہ میں ایک بار جامعہ الازہر (قاہرہ) کے امیر الشیخ مصطفیٰ المراغی ہندوستان آئے۔ ان کی ملاقات مفتی کفایت اللہ صاحب سے ہوئی۔ ان کو دیکھ کر شیخ مراغی نے کہا: ینبلج العلم والوقار من جبینہ (ان کی پیشانی سے علم اور وقار چمک رہا ہے) سید جمال الدین افغانی کی ملاقات پہلی بار امیر شکیب ارسلان (۱۹۴۶-۱۸۶۹) سے ہوئی تو وہ ان کی شخصیت سے بہت متاثر ہوئے۔ انہوں نے کہا: انا اهنی ارض الاسلام التي انبتتك (میں اسلام کی اس سر زمین کو مبارک باد دیتا ہوں جس نے تم کو جنم دیا)۔ مولانا اقبال احمد سہیل (۱۹۵۵-۱۸۸۰)، جس زمانہ میں علی گڑھ میں ایم اے کے طالب علم تھے، خواجہ کمال الدین وہاں آئے۔ ایک موقع پر انہوں نے یونین ہال میں مولانا سہیل کی تقریر سنی۔ اس سے اتنا خوش ہوئے کہ انہوں نے کہا: اگر تمہارے جیسا آدمی مجھے کام کرنے کے لئے مل جائے، تو میں یورپ کی سب سے بلند چوٹی پر اسلام کا جھنڈا لہرادوں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ انیسویں صدی کے آخر میں کیسے کیسے اعلیٰ صلاحیت کے لوگ مسلمانوں کے اندر پیدا ہوئے۔ مگر یہ تمام اعلیٰ صلاحیتیں سیاست میں ضائع ہو گئیں۔ ان میں سے کوئی شخص بھی دعوت کے اصل کام میں استعمال نہ ہوسکا۔ حیدر آباد سے دو صاحبان تشریف لائے۔ ڈاکٹر حسن الدین احمد (آئی اے ایس) اور ایم کے عارف الدین (آئی اے ایس)۔ ان لوگوں سے حیدر آباد کی بلڈنگ کرسچن میں پہلے بھی بات ہوئی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader