آغازِ کلام
Urdu book, p. 328
By Maulana Wahiduddin Khan
حیدر آباد کی عمارت کا مسئلہ آخری حد تک سنگین ہو چکا تھا۔ ہاشم القاسمی نے اپنی بد دیانتی کو چھپانے کے لئے ہر قسم کی تدبیریں اختیار کیں۔ مولانا علی میاں، صلاح الدین اویسی، منت اللہ رحمانی، سید شہاب الدین اور دوسرے اکثر اکابر ملت براہ راست یا بالواسطہ طور پر ان کے مددگار بن گئے۔ بظاہر ایسا معلوم ہونے لگا کہ ہم اس عمارت کو ہاشم القاسمی صاحب کے ناجائز قبضہ سے نکالنے میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکیں گے مگر اللہ تعالیٰ نے عارف الدین صاحب کو کھڑا کر دیا۔ مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس معاملہ میں قرآن کے وہ الفاظ صادق آنے والے ہیں کہ ان کی سازشیں ہرگز کامیاب ہونے والی نہیں و ان كان مكرهم لتزول منه الجبال ۔ 9 جولائی ۱۹۹۰ جون ۱۹۸۷ میں افریقہ کے ایک سفر میں تھا۔ اس دوران ٹرانزٹ پنجرے کے طور پر میں ۲۴ گھنٹے کے لئے کراچی میں ٹھہرا تھا۔ یہاں کچھ مسلمانوں سے ملاقات ہوئی جو ندھ کے ہندوؤں میں خاموشی کے ساتھ تبلیغی کام کر رہے ہیں۔ یہ غیر معروف قسم کے عام مسلمان تھے۔ یہ ضروری کام پاکستان کے کسی مشہور عالم نے تو نہیں کیا۔ البتہ کچھ گمنام مسلمان اس کو انجام دے رہے ہیں۔ کراچی کے مسعود احمد انصاری (فون: (۶۵۴۱۹۴ کے خط سے معلوم ہوا کہ اب تک کی کوششوں سے کل ۲۴۷۶ ہندو اسلام قبول کر چکے ہیں۔ انھوں نے لکھا ہے کہ بہاول پور میں ان کے ادارہ کی چھ ایکڑ زمین ہے۔ یہاں وہ ایک مرکز بنانا چاہتے ہیں جس میں نومسلموں کی تعلیم و تربیت کے لئے مدرسہ، مسجد، ہوسٹل، ہسپتال، رہائش گاہ وغیرہ ہوگی۔ فی الحال مسجد کی تعمیر سے انھوں نے اس کی ابتدا کر دی ہے۔ یہ بلاشبہ ایک صحیح اسلامی کام ہے ۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی مدد فرمائے۔ سید لیاقت علی (پیدائش ۱۹۵۶) ناگپور کے رہنے والے ہیں۔ وہاں ان کا آفست پرنٹنگ پریس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader