Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 329

By Maulana Wahiduddin Khan

ایس کا گڑھ ہے۔ آپ ذاتی واقفیت کے مطابق آر ایس ایس کے بارہ میں کچھ بتائیے۔ انھوں نے کہا کہ جس علاقہ میں میں رہتا ہوں، وہاں بہت سے آر ایس ایس کے لوگ آباد ہیں اور میں ۲۰ برس سے ان کو جانتا ہوں۔ انھوں نے کہا کہ میں نے تو انھیں نہایت اچھا انسان پایا۔ میرے کہنے پر انھوں نے دوسری ڈائری میں یہ سطریں لکھیں: "میں خود یہ بات کہتا ہوں کہ ناگپور میں جن آر ایس ایس والوں سے میرا تعلق اور میرے خاندان کا تعلق تقریباً ۲۰ برسوں سے ہے، ان سے زیادہ شریف لوگ ہم نے نہیں پایا۔" انھوں نے ان کی شرافت اور اصول پسندی کے بہت سے واقعات سنائے۔ میں نے کہا کہ میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ آر ایس ایس دراصل ایک پرو ہندو (ہندو نواز) تنظیم ہے۔ اس کو مسلمانوں نے اینٹی مسلم مسلم دشمن ، تنظیم فرض کر لیا۔ اسی غلط فہمی سے تمام خرابیاں پیدا ہوئی ہیں۔ لیاقت علی صاحب نے اتفاق کیا۔ ۱۱ جولائی ۱۹۹۰ء اقبال کا ایک شعر ہے۔ اس میں وہ خدا سے کہتے ہیں کہ اگر تو حشر کے دن میرا حساب لینا ضروری سمجھتا ہے تو محمد مصطفیٰ کی نگاہوں سے چھپا کر میرا حساب لینا۔ گر تو می بینی حسابم ناگزیر از نگاہ مصطفیٰ پنہاں بگیر اقبال کے ایک معتقد نے اس شعر کو پڑھ کر کہا کہ یہ شعر اقبال کے عشق رسول کو بہت آتا ہے۔ میں نے کہا کہ وہ عشق رسول کو بتاتا ہو گا مگر وہ خوف خدا کو نہیں بتاتا۔ اور عشق رسول بہر حال خوف خدا کے تابع ہے۔ ۱۲ جولائی ۱۹۹۰ جنوری ۱۹۸۳ء میں میں ایک کانفرنس کی دعوت پر مالدیپ گیا تھا۔ وہاں میری ملاقات اقبال کے صاحبزادے جاوید اقبال سے ہوئی۔ جاوید اقبال سے میں نے کہا کہ اقبال موجودہ مسلمانوں کا سب سے بڑا المیہ ہیں۔ ان کے اشعار نے مسلمانوں کے اندر نہایت غلط ذہن پیدا کیا جس کی قیمت وہ ہر محاذ پر برباد کر رہے ہیں۔ مثلاً اقبال کا ایک شعر ہے:

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page