Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 33

By Maulana Wahiduddin Khan

' قبر کی پوجا مہا پاپ ہے : یہی نہیں۔ ہندوؤں نے اور بھی بہت سے اشتعال انگیز جملوں سے شہر کی دیواریں کالی کر دیں۔ مثلاً بھارت میں رہنا ہوگا تو بندے سے ماترم کہنا ہوگا۔ میں نے اس واقعہ کو سنا تو مجھے بے حد دکھ ہوا۔ میں نے کہا کہ دعوت کا کلمہ دلوں پر لکھا جاتا ہے نہ کہ دیواروں پر۔ دوسروں کے دلوں پر کلمہ حق لکھنے کے لئے پہلے خود اپنے دل پر کلمہ حق لکھنا پڑتا ہے۔ جو لوگ اپنے دلوں پر کلمہ حق نہ لکھ سکیں وہ ہی اس کو دیواروں پر لکھتے ہیں۔ اور جو لوگ دیواروں پر کلمہ حق لکھیں وہ صرف فساد برپا کرنے والے ہیں۔ ان کو دعوت دینے والا نہیں کہا جاسکتا۔ ۱۲ فروری ۱۹۸۹ حدیث میں آیا ہے کہ دو باتیں ایسی ہیں جن کے بارے میں تمام اگلے اور پچھلے لوگوں سے پوچھا جائے گا۔ ایک یہ کہ تم کس کی عبادت کرتے تھے۔ دوسرے یہ کہ تم نے رسولوں کو کیا جواب دیا (کلتمان يُسْأَلُ عَنْهَا الأَوَّلُونَ وَالْآخِرُونَ ـــ مَاذَا أَكُنتُمْ تَعْبُدُونَ ، وَمَاذَا أَجَبْتُم المرسلين ) یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پیغمبر آخر الزماں کے بعد پیدا ہونے والے لوگوں کا امتحان ماذا اجبتم المرسلين کے بارہ میں کیا ہے۔ آپ کے بعد کوئی رسول آنے والا نہیں۔ پھر کیا بعد کے لوگوں سے امتحان ساقط کر دیا گیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ امتحان جاری ہے۔ پہلے یہ امتحان رسول کی سطح پر لیا جاتا تھا، اب یہ امتحان " نائب رسول " کی سطح پر لیا جائے گا۔ مگر نائب رسول سے مراد رسمی قسم کے علماء نہیں ہیں۔ اس سے مراد وہ افراد ہیں جو حقیقی معنوں میں رسول کی دعوت لے کر اٹھیں۔ جو واقعی طور پر اپنے زمانہ میں رسول کی نمائندگی کریں۔ ۱۳ فروری ۱۹۸۹ حسن الہضیبی مرحوم الاخوان المسلمون کے لیڈر تھے۔ ان کے لڑکے مامون الہضیبی ( پیدائش ۱۹۲۱ ) آجکل اخوان کے مستشار ہیں۔ مامون الہضیبی کا ایک انٹرویو قاہرہ کے ماہنامہ المختار

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page