Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 330

By Maulana Wahiduddin Khan

اللہ کو پامرڈی مومن پہ بھروسہ ابلیس کو یورپ کی مشینوں کا سہارا موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کو ہر مقام پر غیر اقوام کے مقابلہ میں شکست ہوئی ہے۔ مثلاً ۱۸۳۱ میں سید احمد بریلوی کی شکست سکھوں کے مقابلہ میں، ۱۸۵۷ میں علماء ہند کی شکست انگریزوں کے مقابلہ میں، ۱۹۴۸ میں حسن البناء اور ان کے ساتھیوں کی شکست یہودیوں کے مقابلہ میں۔ پھر کیا یہ سارے لوگ ایمان سے خالی تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان شکستوں کا سبب ناکافی تیاری تھی نہ کہ ناکافی ایمان۔ اقبال کی پوری شاعری اسی قسم کی غیر حقیقی باتوں سے بھری ہوئی ہے اور مسلمانوں کے ذہن کو غیر حقیقت پسند بنانے میں اس کا سب سے زیادہ حصہ ہے۔ ۱۲ جولائی ۱۹۹۰ پاکستان کی تحریک کے زمانہ میں اس کے حامی یہ کہا کرتے تھے کہ ؛ پاکستان کا مطلب کیا، لا الہ الا اللہ۔ پاکستان بننے کے بعد سید ابوالاعلیٰ مودودی نے اعلان کیا کہ پاکستان اسلام کے نام الاٹ ہو چکا ہے۔ ڈاکٹر اسرار احمد نے میثاق (جولائی ۱۹۹۰) میں لکھا ہے کہ یہ دنیا کا واحد ملک ہے جس کی ولدیت اسلام ہے۔ حضرت سلمان فارسی اپنا نام بتاتے ہوئے کہا کرتے تھے، ’سلمان ابن اسلام اسی طرح یہ ملک پاکستان ابن اسلام ہے۔ (صفحہ ۳۵) یہ سب لفظی شعبدہ بازی ہے نہ کہ کوئی حقیقی بات۔ اور افسوس یہ ہے کہ مسلمان ایک سو سال سے بھی زیادہ عرصہ سے اسی قسم کی لفظی شعبدہ بازیوں کے فریب میں پڑے ہوئے ہیں۔ ۱۲ جولائی ۱۹۹۰ شاہ ولی اللہ دہلوی (۱۷۶۲ - ۱۷۰۳) نے اپنی مشہور کتاب حجۃ اللہ البالغہ کے دیباچہ میں لکھا ہے کہ مصطفوی شریعت کے لئے وقت آگیا ہے کہ برہان اور دلیل کے پیرایوں میں ملبوس کر کے اس کو میدان میں لایا جائے: ان سطروں کے لکھے ہوئے ڈھائی سو سال گزر گئے مگر ابھی تک صحیح معنوں میں مذکورہ قسم کی مدلل کتاب اسلام پر نہ لکھی جاسکی۔ شاہ ولی اللہ صاحب کی کتاب (حجۃ اللہ البالغہ) روایتی انداز کی کتاب ہے۔ شیخ حسین جسر کی کتاب قصة الایمان بین العلم والفلسفة والقرآن فرض مکالمہ کے روپ میں ہے جو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page