Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 331

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک غیر علمی طریقہ ہے۔ شبلی نعمانی کی کتاب الکلام، قدیم کلامیات کا اردو زبان میں اعادہ ہے۔ سید قطب، اقبال، ابوالاعلیٰ مودودی، ابوالحسن علی ندوی وغیرہ کی کتابوں میں سے کوئی کتاب ایسی نہیں جس کو جدید استدلالی معیار پر رکھا جاسکے۔ غیرمسلموں نے البتہ اس موضوع پر قابل قدر کام کیا ہے۔ مثلاً فرانس کے ڈاکٹر موریس بکائی۔ ۱۵ جولائی ۱۹۹۰ مسٹر محمد علی جناح نے جس پاکستان کا نقشہ پیش کیا تھا اس کا نصف حصہ مشرق میں تھا اور نصف حصہ مغرب میں تھا۔ اور دونوں کے درمیان اس دشمن ملک‘ کا ایک ہزار میل کا رقبہ حائل تھا۔ جس سے الگ ہونے کے لئے مسٹر جناح اپنا پاکستان بنا رہے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ تحریک کے زمانہ میں ایک انگریز نے مسٹر جناح سے سوال کیا کہ آپ پاکستان کی صورت میں ایک علیحدہ ملک بنانا چاہتے ہیں۔ حالاں کہ جغرافیہ کا قانون واضح طور پر آپ کے خلاف ہے۔ اس کے جواب میں مسٹر جناح نے اپنی ایک تقریر میں کہا: 'Some people are talking about some Geographical difficulties in the way of Pakistan. May I ask them by what rule of Geography are they here.' کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ پاکستان کی راہ میں کچھ جغرافیانی مشکلیں ہیں۔ کیا میں ان سے پوچھ سکتا ہوں کہ جغرافیہ کے کس قانون کے تحت وہ یہاں ہیں۔ انگریز انگلینڈ اور انڈیا کو ایک ملک نہیں کہتے تھے۔ ان کی حیثیت حاکم کی تھی جو اپنی برتر طاقت کے ذریعہ انڈیا پر حکومت کر رہی تھی۔ اس کے برعکس مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان (بنگلہ دیش) مسٹر جناح کے بیان کے مطابق، دونوں ملک ایک تھے ۔ ان دونوں البعید الوقوع خطوں کو ایک ایسے واحد ملک کی حیثیت دی جارہی تھی جہاں صرف ایک قوم بستی تھی۔ مسٹر جناح کا یہ جواب ظاہری حسن کے باوجود بالکل لغو تھا۔ مگر آجکل کے زمانہ میں وہی شخص لیڈر بنتا ہے جو ایسے الفاظ بول سکے جو بظاہر خوبصورت مگر حقیقتًا بالکل بے معنی ہوں۔ ڈاکٹر اسرار احمد صاحب کی ایک تقریر ماہنامہ میثاق (جولائی ۱۹۹۰ء) میں چھپی ہے۔ اس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page