آغازِ کلام
Urdu book, p. 332
By Maulana Wahiduddin Khan
تقریر میں وہ کہتے ہیں کہ: "قیامِ پاکستان کے ۳۳ برس بعد ۱۹۸۰ء میں پہلی مرتبہ بھارت گیا ہوں تو آپ اندازہ نہیں کر سکتے کہ علی گڑھ کے مسلمانوں کی باتوں سے کس طرح میرا کلیجہ شق ہوا ہے۔ وہ لوگ کہتے تھے کہ ۱۹۷۱ء تک ہمارا یہ خیال تھا کہ پاکستان ہمارا محافظ ہے، لیکن اب ہم یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان اپنی حفاظت ہی کرلے تو بڑی بات ہے۔ ہمیں اپنی حفاظت خود کرنی ہے۔ اب ہم بھیڑ بکریوں کی طرح نہیں مریں گے، بلکہ مار کر مریں گے۔" مجھے نہیں معلوم کہ علی گڑھ کے کن مسلمانوں نے ڈاکٹر اسرار احمد صاحب سے مذکورہ بات کہی۔ تاہم ان کی پہلی بات بھی بے معنی اور دوسری بات بھی بے معنی۔ ہندوستان کے مسلمانوں کی حفاظت نہ پاکستان کر سکتا ہے اور نہ ان کا "مار کر مرنے" کا مزاج۔ حقیقت یہ ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کے مسئلے کا حل صرف ایک ہے، اور وہ حقیقت پسندی ہے۔ مسلمانوں کی جذباتیتا ان کا مسئلہ ہے اور حقیقت پسندی ہی وہ چیز ہے جو ان تمام مسائل کو حل کر سکتی ہے۔ ۷ جولائی ۱۹۹۰ء کچھ ہندوستانی اخبار نویس ہندوستان کی شمالی سرحد پر لے جائے گئے۔ وہاں ان کی ملاقات چار کشمیری دہشت گردوں سے کرائی گئی جن میں سے ایک سلیم زرگر (پروفیسر مشیر الحق کا قاتل) بھی تھا۔ اس کی رپورٹ دہلی کے ۷ جولائی ۱۹۹۰ء کے اخبارات میں شائع ہوئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، چار میں سے تین دہشت گردوں نے اپنی تحریک کے بارے میں مایوسی کا اظہار کیا۔ سلیم زرگر نے اخبار نویسوں کے ایک جواب میں کہا' ہم کو پاکستان نے دھوکہ دیا۔ انھوں نے کہا تھا کہ تحریک تم شروع کرو، جنگ ہم کریں گے۔ لیکن نہ جنگ ہوئی اور نہ ہم کامیاب ہوئے۔' یہ بات بظاہر صحیح معلوم ہوتی ہے۔ پاکستان کے ڈاکٹر اسرار احمد صاحب نے میثاق (جولائی ۱۹۹۰) میں پر جوش طور پر کہا ہے کہ پاکستانی قوم کشمیر کے معاملہ میں انتہائی بزدل ہو گئی ہے۔ آج کشمیر کے معاملہ میں ہمارا اجماع ہے کہ 'دیکھنا، کوئی ایسی حرکت نہ کرنا کہ بھارت کو جنگ چھیڑنے کا موقع مل جائے: یہ ہے ہمارے خوف کا عالم اور ہمارے لرزہ بر اندام ہونے کی کیفیت۔" مجاہد اول' سے لیکر 'مجاہد آخر' تک سب جنگ سے خائف ہیں۔ مجاہد اول کی ساری مجاہدانہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader