آغازِ کلام
Urdu book, p. 333
By Maulana Wahiduddin Khan
تقریر میں ہوا اَنشوراہوگئی ہے۔ اور اب وہ ایک ہی بات کہہ رہے ہیں کہ احتیاط، احتیاط، احتیاط۔ مجاہد آخر قاضی حسین احمد (امیر جماعت) کا حال یہ ہے کہ ایک ہی سانس میں دو باتیں کہتے ہیں ، جہاد و قتال کی بھی اور جنگ سے گریز کی بھی۔ (صفحہ ۲۳-۲۴) یہ غیر ذمہ داری کی انتہا ہے کہ چند باقی تقریریں کر کے قوم کے نوجوانوں کو لڑنے نے بھڑکایا جائے، حالاں کہ خود جنگ لڑنے کا کوئی حقیقی ارادہ نہ ہو۔ ۱۸ جولائی ۱۹۹۰ ڈائری کے صفحہ ۲۰ اپریل ۱۹۹۰ء میں پروفیسر مشیر الحق کے قتل کا ذکر ہے۔ ان کو عین روزہ کے دن سرینگر میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ ان کا قاتل ۲۵ سالہ سلیم زرگر تھا۔ کشمیر کی پولیس نے اس کو گرفتار کر لیا ہے۔ ۴؍ جولائی ۱۹۹۰ء کو وہ اخبار نویسوں کے سامنے لایا گیا۔ قومی آواز (۷ جولائی ۱۹۹۰ء) کا نمائندہ لکھتا ہے کہ کشمیر کے شمالی علاقہ میں بارڈر سیکورٹی فورس کے ایک انٹروگیشن سنٹر میں چار گرفتار دہشت گردوں سے ملنے کا موقع ملا۔ ان میں سے ایک پست قد نوجوان سلیم زرگر تھا۔ اس نے مشیر الحق جیسے مسلمان کو ہلاک کرنے کے لئے پندرہ گولیاں ان کے سینے میں اتار دیں۔ سلیم سے پوچھا گیا کہ تم نے ایسا کیوں کیا۔ اس نے کہا کہ اسلام کا نظام قائم کرنے کے لئے۔ جب میں نے کہا کہ مشیر الحق تو اسلامیات کا ماہر تھا۔ وہ باقاعدہ نماز روزہ کرتا تھا، پھر اس کو کیوں مارا۔ بولا کہ حکم جو ملتا تھا۔ میرے کمانڈر کا حکم تھا، اس لئے میں نے ایسا کیا: سلیم زرگر کی تصویر اخبارات میں چھپی ہے۔ اس کے چہرہ پر داڑھی نظر نہیں آتی۔ کشمیر کے یہ جنگجو نوجوان اقبال اور خمینی اور مودودی کے افکار سے متاثر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم بندوق کی گولی کے زور پر اسلام لائیں گے، پہلے کشمیر میں اور پھر ساری دنیا میں۔ یہ کیسے عجیب ہیں وہ لوگ جو خود چنگیزی کر رہے ہیں، اور کہتے ہیں کہ ہم چنگیزی کو مٹانا چاہتے ہیں۔ ۱۹ جولائی ۱۹۹۰ موجودہ صدی میں مسلمانوں کے اندر جتنی بھی بڑی بڑی تحریکیں اُٹھی ہیں، وہ سب کی سب خارجی اَشو پر مبنی تھیں۔ خلافت کا اَشو، تقسیم کا اَشو، ہندو خطرہ کا اَشو، بابری مسجد کا اَشو، وغیرہ۔ ہر بار مسلمان کسی نہ کسی خارجی مسئلہ پر بھڑک کر اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader