Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 334

By Maulana Wahiduddin Khan

مگر اس قسم کی تمام تحریکیں بالکل بے فائدہ ہیں۔ اصل تحریک وہ ہے جو افراد قوم کو باشعور بنانے کے لئے اٹھائی جائے۔ مگر (الرسالہ شن کے سوا) اس قسم کی کوئی تحریک پچھلی صدی کے اندر نہیں اٹھی۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے اینٹ نہ بنائی جائے البتہ چھت کھڑی کرنے کے لئے دھوم مچائی جائے۔ ۲۰ جولائی ۱۹۹۰ " تجدید و احیاء دین " مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کے فکر کی بنیادی کتاب ہے۔ اس کتاب کا انگریزی ترجمہ Revivalist movement in Islam کے نام سے چھپا ہے۔ موجودہ زمانہ کے تمام مفکرین اپنی تحریکوں کو " احیاء اسلام " یا " تجدید دین " کا نام دیتے ہیں۔ مگر ان کی کتابوں کو پڑھئے تو معلوم ہوگا کہ ان لوگوں کے نزدیک احیاء (Revival) سے مراد اسلامی غلبہ کا احیاء ہے نہ کہ اسلامی دعوت کا احیاء۔ یہ بنیادی غلطی ہے جس میں موجودہ زمانہ کے تمام مفکرین مبتلا ہیں۔ اسلامی احیاء کی تحریک صرف وہ ہوسکتی ہے جو اپنا کام وہاں سے شروع کرے جہاں سے اسلام شروع ہوا ۔ اسلام کہ میں دعوت توحید اور انذار آخرت سے شروع ہوا ۔ مگر موجودہ زمانہ کے مفکرین کی تحریکیں بتاتی ہیں کہ وہ دعوت الی اللہ کے حقیقی تصور سے بالکل نا آشنا تھے۔ وہ صرف اسلام کے دور حکومت کو جانتے تھے اور کسی ایک یا دوسری شکل میں اسی دور حکومت کے احیاء کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے۔ ۲۱ جولائی ۱۹۹۰ ڈاکٹر عابد سعید (بجراسی) نے الرسالہ کی صبر و اعراض کی پالیسی کی شکایت کی۔ پھر گفتگو کے دوران انھوں نے بتایا کہ میرا ایک لڑکا انجینئر ہے۔ وہ سعودی عرب میں کام کرتا ہے۔ ایک روز اس کے ڈائریکٹر نے اس کے کام کی تعریف کی۔ اس نے کہا کہ میں دیکھتا ہوں کہ آپ اپنی ڈیوٹی پوری مستعدی کے ساتھ انجام دیتے ہیں۔ ہم آپ کے کام سے خوش ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ مذکورہ دفتر میں ایک سعودی شخص نیجر ہے۔ وہ کچھ کام نہیں کرتا۔ ڈاکٹر عابد سعید کے صاحبزادہ نے اس پر کاغذ کینکتے ہوئے کہا کہ فلاں صاحب تو صرف اپنی کرسی پر بیٹھے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page