آغازِ کلام
Urdu book, p. 335
By Maulana Wahiduddin Khan
ہوئے سگریٹ پیتے رہتے ہیں۔ اس سے دفتر میں کام کا ماحول خراب ہوتا ہے۔ یہ سنتے ہی ان کا ڈاکٹر سنجیدہ ہو گیا۔ اس نے کہا کہ وہ اعلیٰ سعودی خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔ وہ کچھ نہ کرنے ہی کی قیمت پاتا ہے۔ آپ کو اس کی سرگرمیوں پر اعتراض کی ضرورت نہیں: He is paid for doing nothing. You are not supposed to object about his activities. میں نے کہا کہ پھر آپ نے اپنے صاحبزادہ کو کیا مشورہ دیا۔ انھوں نے بتایا کہ میں نے کہا کہ تم اس کی فکر چھوڑ دو، اپنا کام کرو۔ میں نے کہا کہ اسی طرزِ عمل کا نام صبر و اعراض ہے۔ صبر و اعراض زندگی کا ایک اصول ہے۔ اس کی ضرورت ہر جگہ ہے، عرب میں بھی اور ہندوستان میں بھی، مسلمانوں سے صرف یہ کہتا ہوں کہ تم جس طرح دوسرے ملکوں میں صبر و اعراض اور ایڈجسٹمنٹ کے ذریعہ رہتے ہو اسی طرح ہندوستان میں بھی رہو۔ ۲۲ جولائی ۱۹۹۰ آج کا انسان اصول کے معاملہ میں انتہائی بے حس گمردات کے معاملہ میں انتہائی حساس ہے۔ ایک منظر آنکھوں کے سامنے سے گزرا۔ اس کے بعد یہ الفاظ میری زبان پر آگئے ۔ آج کے انسان کا حال یہ ہے کہ اس کی اپنی ذات زد میں آئے یا اس کا اپنا مفاد خطرہ میں پڑ جائے تو وہ آخری حد تک بے چین ہو جائے گا۔ لیکن اگر حق و صداقت کا اصول مجروح ہو رہا ہو تو اس کے بارہ میں اس کو کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔ آج سب سے بڑا کام یہ ہے کہ انسان کے اس مزاج کو بدلا جائے ۔ اگر یہ حالت زیادہ دیر تک باقی رہی تو یقینی ہے کہ ساری انسانیت خدا کے غضب کی مستحق ہو جائے گی۔ اور اس کے بعد اس کو کسی درخت کا سایہ بھی نہ ملے گا جہاں وہ پناہ لے سکے۔ ۲۲ جولائی ۱۹۹۰ مولا ناشبلی نعمانی نے ۱۹۱۴ میں کہا تھا: زوالِ دولت عثمانی زوالِ شرع وملت ہے عزیز و زن که فرزند و عیال وخانماں کب تک اس شعر کے بعد "دولت عثمانی کا زوال آخری حد تک پہنچا۔ یہاں تک کہ ۱۹۲۴ میں اس کا خاتمہ ہو گیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader