آغازِ کلام
Urdu book, p. 336
By Maulana Wahiduddin Khan
اگر شبلی کی یہ بات صحیح ہوتی تو اس کے بعد شریعت اور ملت کا بھی خاتمہ ہو جانا چاہیئے تھا۔ مگر آج شریعت وملت پہلے سے زیادہ طاقت ور حالت میں قائم ہیں۔ مگر مسلمانوں کے نادان لکھنے اور بولنے والوں نے اس سے کوئی سبق نہیں لیا۔ وہ بار بار اسی قسم کی باتیں دہراتے رہے ہیں۔ مثلاً ملک کی تقسیم کے بعد کہا گیا کہ اردو زبان مسلمانوں کی حیات ملی کی علامت ہے۔ اگر اردو گئی تو ملت بھی گئی ۔ اس کے بعد کہا گیا کہ مسلم یونیورسٹی مسلمانوں کے ملی بقا کی علامت ہے۔ اگر مسلم یونیورسٹی کا مسلم کردار ختم ہوا تو مسلمان بھی اس ملک سے ختم ہو جائیں گے۔ اس کے بعد کہا گیا کہ پرسنل لا کا مسئلہ مسلمانوں کے ملی وجود کی علامت ہے۔ اگر پرسنل لا محفوظ نہ رہا تو مسلمان بھی محفوظ نہیں رہ سکتے۔ اب آجکل یہی حیثیت بابری مسجد (ایودھیا) نے لے لی ہے۔ مثال کے طور پر اس کے ایک پرجوش تحریری نقیب مولانا مجیب اللہ ندوی لکھتے ہیں: ”بابری مسجد کا مسئلہ صرف ایک مسجد کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ یہ علامت ہے ہندوستان میں شعائر اسلامی کی حفاظت کی جدوجہد کی۔ اگر ہم اس محاذ پر پیچھے ہٹ گئے تو پھر نہ جانے کتنے محاذوں پر ہمیں پیچھے ہٹنا پڑے گا (الرشاد جولائی ۱۹۹۰، صفحہ ۲) یہ سب بالکل لغو باتیں ہیں۔ اور ان کی لغویت کا یہ ثبوت کافی ہے کہ ان تمام علامتی محاذوں پر مسلمان بار بار شکست کھا رہے ہیں۔ اس کے باوجود اسلام پوری طرح قائم اور محفوظ ہے۔ ۲۴ جولائی ۱۹۹۰ آج عشا کی نماز کسی قدر دیر سے پڑھی۔ نماز ختم کی تو اچانک موت کا خیال آتے ہی جسم کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ دل نے کہا کہ موت کسی شخص کے لئے بلاشبہ سب سے زیادہ سنگین واقعہ ہے۔ اس کی سنگینی کا اہم ترین پہلو یہ ہے کہ وہ دار العمل سے ابدی انقطاع ہے اور دار الجزاء میں ابدی داخلہ، کس قدر بھیانک ہے یہ حقیقت۔ مگر دنیا میں شاید کوئی ایک آدمی بھی نہیں جو اس بھیانک حقیقت کا واقعی احساس رکھتا ہو۔ جھینگر کی قسم کا ایک کیڑا ہے جو زیادہ تر گرم ملکوں میں پایا جاتا ہے۔ اس کو انگریزی میں مینس (Mantis) کہا جاتا ہے۔ وہ چھوٹے بڑے مختلف قد کے ہوتے ہیں۔ چنانچہ اس کی ایک

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader