Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 337

By Maulana Wahiduddin Khan

ہزار سے زیادہ قسمیں دریافت کی گئی ہیں۔ اس کیڑے کی ایک قسم وہ ہے جو اپنے اگلے پاؤں اس طرح رکھتی ہے جیسے نماز پڑھنے والا نماز کے وقت ہاتھ باندھتا ہے، چنانچہ اس کو عبادت گزار کیڑا (Praying Mantis) کہا جاتا ہے۔ مگر یہ بات صحیح نہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر جھینگُر خدا کی عبادت کرتا ہے تو شیر اور ہاتھی جیسے جانور بھی اسی طرح خدا کی عبادت کیوں نہیں کرتے۔ کیا خدا کی عبادت گزاری صرف جھینگڑوں اور پتنگوں کے لئے ہے۔ یہ صحیح ہے کہ زمین و آسمان کی تمام چیزیں خدا کی عبادت کرتی ہیں۔ مگر اس عبادت کا یہ مطلب نہیں کہ وہ مسجد کے نمازی کی طرح ہاتھ باندھ کر کھڑی ہوتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ خدا کے مقرر کئے ہوئے قوانین پر چلتی ہیں۔ اس اعتبار سے کائنات کی ہر چیز کامل عبادت گزار ہے، خواہ وہ آسمانی چیزیں ہوں یا زمینی چیزیں۔ ۲۶ جولائی ۱۹۹۰ جمعیۃ علماء ہند کے تحت ایک اردو ہفت روزہ "جمعیۃ" کے نام سے نکلتا ہے۔ اس کے شمارہ ۲۰-۲۶ جولائی ۱۹۹۰ میں "حافظ سہارنپوری" کی ایک نظم چھپی ہے۔ اس کا ایک شعر یہ ہے : ہو رہا ہے یہ تقاضا گردش ایام کا لے کے جھنڈا ہم اٹھیں اپنے خدا کے نام کا اس کو پڑھ کر خیال آیا کہ اللہ کا مطلب مسلمانوں نے یا تو یہ سمجھا کہ لفظ اللہ کو لے کر اسے رٹاجائے۔ چنانچہ بے شمار لوگ گوشوں میں بیٹھ کر "اللہ اللہ" کی لفظی تکرار کر رہے ہیں۔ دوسرے لوگوں کے نزدیک اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے نام پر اقوام غیر سے جنگ چھیڑ دی جائے ۔ اللہ اکبر کا نعرہ لگا کر لوگوں کے اوپر حملہ کر دیا جائے ۔ یہ دونوں ہی باتیں لغو ہیں۔ صحیح بات تکبیر رب اور دعوت الی اللہ ہے۔ تکبیر رب کا مطلب ہے اللہ کی عظمت و کبریائی کو اپنے شعور میں داخل کرنا ۔ اللہ کے وجود ، اس کی صفات کمال اور اس کے آلاء کی یاد میں جینا ۔ اپنے اندر ایک ربانی انسان کی پرورش کرنا ۔ دعوت الی اللہ اسی عمل کا خارجی رخ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی نے جس خدائے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page