Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 338

By Maulana Wahiduddin Khan

ہر آدمی کا حساب لے گا اور ہر ایک کو اس کے عمل کے مطابق انعام یا سزا دے گا۔ اس دنیا میں سب سے نادر چیز کامل انسان ہے۔ کامل انسان وہ ہے جو متوازن شخصیت کا حامل ہو۔ جو عقدہ نفسی سے خالی ہو۔ جو ایک بے زور دلیل کے آگے اس طرح جھک جائے جس طرح کوئی شخص زور کے آگے جھکتا ہے۔ جو بات کو بات کے اعتبار سے دیکھے، نہ اس اعتبار سے کہ وہ اس کے موافق ہے یا اس کے خلاف۔ جو ارضنا الاشیاء کی مہی کی صلاحیت رکھتا ہو۔ جو اعلیٰ ترین صلاحیت رکھنے کے باوجود آخری حد تک متواضع بن جائے۔ جس کا دل ہر قسم کے منفی جذبات سے خالی ہو۔ جو اپنے اور غیر کا فرق کے بغیر حقیقت کو دیکھ سکتا ہو۔ جو ذاتی مفاد اور شمصی محرکات سے آخری حد تک بلند ہو۔ جو اپنی ذات میں جینے کے بجائے، بر تر حقائق میں جیتا ہو۔ خدا بلاشبہ ہر ہر انسان کو کامل انسان بنا سکتا ہے۔ مگر اسباب کے دائرہ میں ایسے کسی انسان کا ظہور میں آنا اس دنیا کا سب سے زیادہ کمیاب واقعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل کے ذریعہ صحرائے عرب میں ایک نسل پیدا کرنے کی جو منصوبہ بندی کی، اس میں اگر چہ ہزاروں اور لاکھوں قیمتی انسان پیدا ہوئے۔ مگر ڈھائی ہزار سال کی لمبی مدت میں انسان کامل صرف تین پیدا ہو سکے : اول الثلاثة محمد بن عبد الله ثانی الثلاثہ ابو بکر بن ابی قحافہ ثالث الثلاثہ عمر بن الخطاب پاکستانی ماہنامہ میثاق کا شمارہ اکتوبر ۱۹۸۷ دیکھ رہا تھا۔ اس میں ڈاکٹر اسرار احمد صاحب کی ایک تقریر چھپی ہے جو انھوں نے ۴ اگست ۱۹۸۷ کو لاہور کی مسجد دارالسلام میں کی۔ اس کا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page