Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 339

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک حصہ یہ ہے : ، کراچی کے قریب نصف حصہ پر کرفیو نافذ ہے۔ شہری زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔ کروڑوں روپیہ کے کاروبار کا روزانہ نقصان ہو رہا ہے۔ اس بگاڑ کی شروعات کی یہ بات ہے کہ وہاں کی ایک گنجان آبادی اور پولیس کے مابین تصادم سے صورت بگڑ گئی۔ پولیس نے لوٹ مار کی اور بڑی بے دردی کے ساتھ فائرنگ کی اور لوگوں کو قتل کیا۔ کراچی کی پولیس میں پنجابیوں کی تعداد زیادہ ہے۔ فرض کیجئے ، کہیں کوئی مظاہرہ یا ہنگامہ ہوتا ہے اور پولیس اس پر قابو پانے اور اسے فرو کرنے کے لئے وہاں پہنچتی ہے۔ اب مجمع کے اندر کچھ تخریب کار بھی ہیں۔ انہوں نے نشانہ لیا اور دو چار پولیس والے مار دئے۔ حالانکہ وہاں پولیس آئی تھی نظم و نسق کو بحال رکھنے کے لئے۔ لیکن جب تخریب کاروں نے پولیس کے خلاف فائرنگ کھول دی تو ظاہر ہے کہ اس کا نتیجہ پولیس کی طرف سے ردعمل کی صورت میں ہوگا۔ اور یہ ہنگامہ عوام مقابلہ (versus) پولیس رخ اختیار کر لیں گے۔ اور چونکہ پولیس میں زیادہ نفری پنجابیوں کی ہے اور کراچی میں عوام کی اکثریت مہاجرین پر مشتمل ہے، لہٰذا بڑی عیاری سے تخریبی عناصر کی جانب سے پنجابی - مہاجر تصادم کا رنگ دیدیا جاتا ہے ! صفحہ ۶۹ ٹھیک یہی کہانی ہندوستان میں بھی دہرائی جاتی ہے۔ نزاع کے موقع پر پولیس نظم و نسق کی بحالی کے لئے آتی ہے۔ مگر مسلمان مشتعل ہو کر پولیس کے خلاف اقدام کر بیٹھتے ہیں۔ اس کے بعد یہ ہوتا ہے کہ جو مسئلہ پہلے پولیس اور فسادیوں کے درمیان تھا، وہ پولیس اور مسلمانوں کے درمیان ہو جاتا ہے۔ اور پھر وہ ہی کچھ پیش آتا ہے جو کراچی میں پیش آیا۔ ۲۹ جولائی ۱۹۹۰ رج کے مراسم میں ایک رمی جمار ہے۔ یہ مقام منیٰ میں ہے۔ منیٰ کا علاقہ پہاڑوں سے گھرا ہوا ہے۔ آٹھ سال پہلے سعودی حکومت نے مٹی جانے کے لئے ایک پہاڑی کو کاٹ کر سرنگ بنا دی جس کو المعیصم کہا جاتا ہے۔ یہ سرنگ ، ۴۵ میٹر لمبی اور ۱۸ میٹر چوڑی ہے۔ اس سے حاجیوں کے لئے ۲ کلومیٹر کا فاصلہ کم ہو جاتا ہے۔ ۲ جولائی ۱۹۹۰ کو حج کے موقع پر اس سرنگ میں حاجیوں کی بھگدڑ ہوگئی۔ اس سے ۴۲۶ حاجی دب کر مر گئے۔ بہت سے زخمی ہوئے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page