Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 34

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک بے نظیر قائد تھے، جن کے ذریعہ اللہ امت کو اور دین کو ہر دور میں زندہ کرتا ہے۔ اور وہ حقیقی معنوں میں امت کے معمار ہیں: (الامام الشهيد حسن البنا هو الامام الفذا الذي يحيى به الله الامة والدين كل قرن من الزمان وهو البنا حقاً ، صفحه (11) حسن البنا نے ۱۹۴۸ میں فلسطین میں جہاد کیا۔ مگر یہ یہودی اس کے بعد فلسطین میں اور بھی زیادہ مستحکم ہو گئے ۔ ۱۹۴۴ میں انھوں نے مصر کے الکشن میں حصہ لیا ، مگر وہ ناکام رہے ۔ جولائی ۱۹۵۲ میں حسن البنا کی جماعت الاخوان المسلمون فوجی افسروں کا ساتھ دے کر شاہ فاروق کی حکومت ختم کرنے میں شریک تھی۔ مگر اس کے بعد عملاً مصر میں فوجی افسروں کا اقتدار قائم ہو گیا جو تا حال باقی ہے۔ اخوانی حضرات کا موجودہ انجام یہ ہے کہ مصر میں انھوں نے "ملوکیت" کو برداشت نہیں کیا، اسی قسم کی ملوکیت کے زیر سایہ آج وہ سعودی عرب میں پر امن زندگی گزار رہے ہیں۔ ان سب کے با وجود ان کے معتقدین کی نظر میں حسن البنا معمار ملت ہیں۔ انھوں نے ملت اسلامیہ کو نئی زندگی عطا کی ہے۔ خوش عقیدگی بھی کیسی عجیب چیز ہے، وہ ایسی دنیا میں اپنا خیالی قلعہ کھڑا سکتی ہے جہاں واقعہ کے اعتبار سے ایک اینٹ بھی موجود نہ ہو۔ ۱۴ فروری ۱۹۸۹ ابوذر تماسی جونپوری نے دار العلوم دیو بند میں دورہ حدیث تک تعلیم حاصل کی ۔ اس کے بعد وہ جامعہ اسلامیہ (مدینہ) میں داخل ہوئے اور وہاں کا کورس مکمل کیا۔ وہاں انھوں نے عربی ادب کے امتحان میں پوری جامعہ میں ٹاپ کیا۔ اس کے بعد انھیں ۲ لاکھ ریال بطور انعام دئے گئے۔ آجکل وہ جامعہ دار السلام عمر آباد میں مبعوث کے طور پر ہیں اور وہاں عربی ادب پڑھارہے ہیں۔ (رياض الجنة، جونپور ، جنوری ۱۹۸۹، صفحه (۱۰)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page