Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 340

By Maulana Wahiduddin Khan

ڈاکٹر اشفاق احمد (مقیم آسٹریلیا) کا بیان نئی دنیا (۱۳۔ ۱۹ جولائی ۱۹۹۰) میں چھپا ہے وہ خود اس سال حج کرنے گئے تھے اور حادثہ کے وقت اس سرنگ میں موجود تھے۔ ڈاکٹر اشفاق احمد نے بتایا کہ سرنگ میں ایک ہی راستہ آنے اور جانے کے لئے ہے، اس لئے دو طرفہ آمدورفت کی وجہ سے سرنگ میں کافی بھیڑ جمع ہوگئی۔ ۸ بجے صبح ملایشیا اور انڈونیشیا کے حاجیوں کا ایک بڑا ہجوم سرنگ میں داخل ہوا۔ دوسری جانب ترک حاجیوں کا ایک بڑا گروپ واپس آرہا تھا۔ اس کے نتیجہ میں سرنگ کے اندر بیک وقت ۵۰ ہزار حاجی اکٹھا ہوگئے۔ ان میں سے کوئی پیچھے ہٹنے یا دوسروں کو راستہ دینے کے لئے تیار نہیں ہوا۔ اور اس کو انانیت کا مسئلہ بنالیا۔ یہاں تک کہ دھکا کی شروع ہو گئی۔ حاجیوں نے افراتفری میں اپنا راستہ بنانے اور سرنگ سے نکل جانے کے لئے ایک دوسرے پر مکوں اور گھونسوں اور چھاتوں کی نوک سے حملے کرنے شروع کر دئے۔ شیطان کو کنکری مارنے والے انسانیت سوز حرکت پر اتر آئے اس کے نتیجہ میں بہت سے لوگ نیچے گر پڑے اور بھیڑ نے انھیں روند ڈالا۔ بھگدڑ میں لوگ کچل کر مرگئے (صفحہ ۹) اس واقعہ نے دراصل مسلمانوں کی حقیقت کو بے نقاب کر دیا ہے۔ یہی 'انانیت' مسلمان ہر جگہ دکھارہے ہیں۔ اس کی آخری حد یہ ہے کہ حج کا اجتماع بھی اب اس سے محفوظ نہیں رہا۔ ۳۰ جولائی ۱۹۹۰ء پاکستانی اخبار نوائے وقت (۲۲ جون ۱۹۹۰) نے لندن کے اخبار (Observer) سے مسٹر ہیملٹن (Adrian Hamilton) کا مضمون نقل کیا ہے۔ اس کا عنوان ہے۔ وقت آگیا ہے کہ اسلام کے بھوت کو دفن کر دیا جائے : Time to bury the bogy of Islam اس میں مضمون نگار نے کہا ہے کہ ترک دوبارہ وائٹائکہ کے دروازہ پر پہنچ رہے ہیں۔ کمیونزم ہو سکتا ہے کہ مر گیا ہو۔ مگر اب جو حقیقی خطرہ ہمارے لئے ہے وہ اسلام کا ہے : Communism may be dead, but what we really need to fear is a resurgent Islam.

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page